اسلام آباد: بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے شہریوں کو شدید خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کی کوششیں نہ صرف انتہائی خطرناک ہیں بلکہ جدید دور میں اب ایسا کرنا بالکل ناممکن ہو چکا ہے۔
ادارے کی جانب سے شروع کی گئی عوامی آگاہی مہم کے مطابق، یہ پرانا تصور اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے کہ سرحدیں عبور کر کے غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنا آسان ہے۔
اب یورپی یونین نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے انتہائی جدید اور مؤثر ترین نظام نافذ کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے کسی بھی غیر قانونی نقل و حرکت کو فوری طور پر پکڑنا انتہائی آسان ہو گیا ہے۔
سرحدی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی:
تھرمل کیمرے اور سینسرز: سرحدی علاقوں میں ایسے حساس تھرمل کیمرے نصب ہیں جو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی کئی کلومیٹر دور سے انسانی نقل و حرکت کو واضح طور پر پکڑ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جدید سینسرز گاڑیوں اور کنٹینرز کے اندر چھپے افراد کا بھی فوری سراغ لگا لیتے ہیں۔
بائیومیٹرک اور فیس ریکگنیشن: نئے بائیومیٹرک نظام کے تحت تمام مسافروں کے فنگر پرنٹس اور چہرے کے نقوش کا ریکارڈ محفوظ کر لیا جاتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:یورپی ممالک میں نئے مائیگریشن قوانین، غیرقانونی قیام پر سختی
اس سخت نظام کی وجہ سے اگر کوئی شخص ایک بار پکڑا جائے، تو اس کا دوبارہ کسی بھی طریقے سے یورپ میں داخل ہونا ناممکن ہو جاتا ہے۔
فضائی نگرانی: دشوار گزار اور دور دراز کے راستوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کے لیے ڈرونز اور دیگر فضائی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے، جو سیکیورٹی اداروں کو پل پل کی لائیو معلومات فراہم کرتے ہیں۔
بیورو آف ایمیگریشن نے عوام کو مطلع کیا ہے کہ شہری انسانی اسمگلروں کے جھوٹے دلاسوں میں آ کر اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
دوسری طرف انہیں گرفتاری، ذلت آمیز ملک بدری اور جانی نقصان جیسے سنگین ترین خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ادارے نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بیرون ملک روزگار کے لیے صرف اور صرف قانونی اور محفوظ طریقے اختیار کریں۔
اس سلسلے میں مستند معلومات اور ملازمتوں کے جائز مواقع جاننے کے لیے بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی آفیشل ویب سائٹ سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔




