برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس سوم نے ایک تاریخی اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے پہلی بار اپنے ٹیکسوں کی تفصیلات پبلک کر دی ہیں ۔ جس کے بعد وہ برطانوی تاریخ میں ٹیکس کی تفصیلات باقاعدہ جاری کر نیوالے پہلے حکمران بن گئے۔
برطانوی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ دستاویزی رپورٹس کے مطابق، شاہ چارلس نے گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 12.9 ملین پاؤنڈ (برطانوی کرنسی) ٹیکس کی مد میں قومی خزانے میں جمع کروائے۔
دوسری جانب، ان کے ولی عہد اور پرنس آف ویلز، شہزادہ ولیم نے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے 7.76 ملین پاؤنڈ کا ٹیکس ادا کیا۔
آمدنی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شاہ چارلس کو رواں مالی سال کے دوران اپنی مشہور شاہی جاگیر ‘ڈچی آف لنکاسٹر سے تقریباً 25.2 ملین پاؤنڈ کی خطیر آمدنی حاصل ہوئی، جس پر انہوں نے یہ ٹیکس ادا کیا۔
میڈیا رپورٹس میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اتنی بڑی رقم بطور ٹیکس دینے کے بعد شاہ چارلس اب برطانیہ کے ان سرفہرست 100 افراد کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جو ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شاہی خاندان کی مقبولیت میں اضافے کا باعث بنے گا
۔بکنگھم پیلس کے ترجمان نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ کنگ چارلس اور شہزادہ ولیم کی جانب سے ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات پبلک کرنے کا یہ فیصلہ کسی قانونی دباؤ یا آئینی مجبوری کے تحت نہیں کیا گیا، بلکہ یہ ان دونوں کی ذاتی خواہش اور رضاکارانہ انتخاب تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اگلے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بالائی حصوں میں بادل برسنے کا امکان
اس اقدام کا بنیادی مقصد شاہی خاندان کے مالیاتی امور میں مکمل شفافیت لانا، عوامی احتساب کو فروغ دینا اور شاہی خاندان کی جوابدہی سے متعلق عوام کے اعتماد کو مزید بحال کرنا ہے۔
برطانیہ کے شاہ چارلس نے پہلی بار ٹیکس کی تفصیلات جاری کردی۔ شاہ چارلس ٹیکس تفصیلات جاری کرنے والے پہلے بادشاہ ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق شاہ چارلس نے گزشتہ مالی سال میں 12.9 ملین پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا، پرنس ویلیم نے 7.76 ملین پاؤنڈ ٹیکس کی مد میں ادا کیے۔
شاہ چارلس کو رواں سال شاہی جاگیر سے 25.2 ملین پاؤنڈ کی آمدنی ہوئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیکس کی یہ رقم انہیں برطانیہ کے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے 100 افراد میں شامل کرتی ہے۔
کنگ چارلس اور شہزادہ ولیم کی جانب سے اپنی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات رضاکارانہ طور پر جاری کرنے کا فیصلہ ان دونوں کی ذاتی خواہش پر کیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جتنی محبت آزاد کشمیر سے ملتی ہے، اتنی ہی پاکستان سے بھی ملتی ہے ، نومی اے کے
بکنگھم پیلس کے مطابق اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا اور شاہی خاندان کی جوابدہی سے متعلق عوامی آگاہی میں اضافہ کرنا ہے۔




