محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران موسم کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے نئی پیشگوئی جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک کے بالائی حصوں میں بادل برسنے جبکہ جنوبی اور وسطی میدانی اضلاع میں شدید گرمی برقرار رہنے کی توقع ہے۔
بالائی پنجاب، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کا موسم:
سرکاری اعلامیے کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہے گا۔
ان علاقوں میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ بعض پہاڑی مقامات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔
پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، تاہم راولپنڈی ڈویژن، اٹک، چکوال، جہلم، میانوالی، سرگودھا اور گردونواح میں شام یا رات کے اوقات میں آندھی چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
لاہور، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان میں بنیادی طور پر موسم گرم رہے گا، لیکن کہیں کہیں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بونداباندی ہو سکتی ہے۔
خیبرپختونخوا کے علاقوں چترال، دیر، سوات، مالاکنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، کوہستان، بٹگرام، شانگلہ، پشاور اور اس کے گردونواح میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جہاں کچھ مقامات پر موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔
آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر صوبوں کی صورتحال:
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع ابر آلود رہنے اور وقفے وقفے سے بارانِ رحمت کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ تیز بارش کے باعث مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سندھ کے بیشتر اضلاع بشمول کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور میرپورخاص میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، البتہ ساحلی پٹی پر سمندری ہوائیں چلتی رہیں گی۔ صوبے میں بارش کے امکانات کم ہیں، تاہم کچھ علاقوں میں گرد آلود ہوائیں چل سکتی ہیں ۔
بلوچستان کے زیادہ تر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا، لیکن کوئٹہ، ژوب، بارکھان، موسیٰ خیل اور شمال مشرقی علاقوں میں جزوی ابر آلود موسم کے ساتھ چند مقامات پر گرج چمک اور بارش کی امید ہے۔
شہریوں اور سیاحوں کے لیے الرٹ:
محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے مشترکہ الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بارش والے علاقوں میں تیز آندھی، آسمانی بجلی گرنے اور شہری علاقوں میں جل تھل (اربن فلڈنگ) کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ پہاڑی علاقوں میں مقامی سیلابی ریلوں کا بھی خطرہ ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں، بالخصوص مسافروں اور سیاحوں کو دورانِ سفر انتہائی احتیاط برتنے کی سخت ہدایت کی ہے۔




