سردار عتیق

پاکستان اور کشمیر کا رشتہ ناقابل تنسیخ ، کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائیگا، سردار عتیق

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم و صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد نے کہا ہے کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط، تاریخی اور ناقابل تنسیخ ہے اور اسے کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائےگا۔

ایک نیوز ویب سائٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں سردار عتیق خان نے کہاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ابتدائی مطالبات بظاہر درست اور عوامی نوعیت کے تھے تاہم ان مطالبات کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی انہیں ابتدا ہی سے تصادم، بدامنی، افراتفری اور خون خرابے کی طرف جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی مذموم مقاصد بے نقاب، ایکشن کمیٹی انتشار پھیلا رہی ہے، سردارعتیق خان

ان کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ مطالبات کی آڑ میں ریاستی اداروں کے خلاف تنقید، گالم گلوچ اور ایسے عناصر کا کردار سامنے آنا شروع ہوا جن کے پس منظر اور نظریات پہلے سے معلوم تھے۔

سردار عتیق احمد نے کہاکہ دور اندیشی اور دور بینی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور انسان اگر سیاسی اور قومی معاملات پر نظر رکھے تو آنے والے حالات کے بارے میں اندازہ لگا سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ریاست جموں و کشمیر اور پاکستان کا تعلق ایک لازوال اور بے مثال ہے اور کشمیری سیاست سے وابستہ ہر شخص کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر، مہاجرین کشمیر اور پاکستان کے مفادات کو ہر وقت پیش نظر رکھے۔

انہوں نے کہاکہ مسلم کانفرنس کی تاریخ تحریک آزادی کشمیر اور قیام پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔

مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان بننے کے بعد قائم ہونے والے پہلے بریگیڈ کا نام آج بھی جی ایچ کیو میں ’قیوم بریگیڈ‘ کے نام سے موجود ہے، جو ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔

سردار عتیق احمد نے کہاکہ 23 اگست 2023 کو نیلا بٹ میں اپنی تقریر کے دوران میں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات جائز اور درست ہو سکتے ہیں، ان کی حمایت بھی کی جا سکتی ہے، لیکن ان مطالبات کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے وہ تصادم، بدامنی، افراتفری اور خون خرابے کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں مطالبات عوامی نوعیت کے محسوس ہوتے تھے، مثلاً اشیائے ضروریہ سستی کرنے، پلوں اور سڑکوں کی تعمیر جیسے نکات شامل تھے، لیکن بعد ازاں ریاستی اداروں کے خلاف مہم شروع ہو گئی اور اس کے پیچھے بیرونی ایجنڈے کی جھلک نظر آنے لگی۔

سردار عتیق احمد نے کہاکہ لبریشن فرنٹ کے سینئر رہنما امان اللہ خان (مرحوم)، مقبول بٹ اور یاسین ملک جیسے افراد شامل نے کبھی پاکستان مخالف مؤقف اختیار نہیں کیا۔

شاہ غلام قادر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سردار عتیق احمد نے کہاکہ اگر کوئی شخص، خواہ وہ مسلم کانفرنس ، جماعت اسلامی، ن لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف یا جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھتا ہو، ریاستی اداروں یا افواج پاکستان میں بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی پر پابندی برقرار، لاشوں کیے حرمتی کرنیوالے قاتلوں کو کوئی رعایت نہیں ملے گی،ابصار عالم

انہوں نے کہاکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ایسے اقدامات کو غداری تصور کیا جاتا ہے اور اس کے لیے انتہائی سخت سزائیں موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آئین اور قانون سے ہٹ کر کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

سردار عتیق احمد نے کہاکہ موجودہ دور میں افواج پاکستان کو دنیا بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کا لوہا منوایا بلکہ بین الاقوامی سطح پر امن کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہاکہ ان کے کردار نے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو مضبوط کیا اور پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر پیش کیا۔

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سردار عتیق احمد خان نے کہاکہ جن علاقوں میں شدید کشیدگی پائی جاتی تھی وہاں اب حالات کافی حد تک معمول پر آ چکے ہیں۔

مظفرآباد، میرپور اور دیگر علاقوں میں معمولات زندگی بحال ہیں، تاہم بعض مخصوص علاقوں میں اب بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بچوں اور خواتین کو احتجاجی مقامات پر لانا اور انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کرنا دانشمندانہ عمل نہیں۔

سردار عتیق احمد نے کہاکہ ماضی میں احتجاجی واقعات میں جانی نقصان کے بعد جب تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا تو تمام سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کی، تاہم بعد میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے قتل کے مقدمات معاف کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی ذمہ داران کا تعین کرنا مقصود تھا تو مقدمات کی تحقیقات ہونی چاہئیں تھیں لیکن مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بعض عناصر کی کوشش تھی اور ہے کہ 27 جولائی کے انتخابات متاثر ہوں اور عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد کمزور ہو۔یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ عوام سیاسی نظام سے مایوس ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات معمول کے مطابق رہے تو ووٹر ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زیادہ اور بہتر حالات میں 60 سے 65 فیصد تک بھی جا سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے کردار سے متعلق سوال پر سردار عتیق احمد نے کہاکہ مہاجرین کشمیر کی نشستوں کا معاملہ انتہائی حساس ہے کیونکہ ان نشستوں کے پیچھے لاکھوں مہاجرین کی قربانیاں اور جدوجہد موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایسی کسی بھی بحث سے گریز کیا جانا چاہیے جو مہاجرین کے حقوق یا مسئلہ کشمیر کے بنیادی موقف کو متاثر کرے۔

آئندہ انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سردار عتیق احمد نے کہاکہ مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کے تمام 45 حلقوں میں امیدوار کھڑے کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ متحدہ علما کونسل کے ساتھ انتخابی اتحاد ہو چکا ہے اور جماعت پوری قوت کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے گی۔

یہ بھی پڑھیں: چند افراد کے طرز عمل کو بنیاد بنا کر پورے پونچھ ڈویژن پر تنقید ناانصافی، امیر مقام

سردار عتیق احمد نے کہاکہ کشمیر بینک کو شیڈول بینک بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے،میں اس بینک کا بانی چیئرمین ہوں، اگر اقتدار میں رہتا تو آج تک یہ شیڈول ہو چکا ہوتا۔‘

انہوں نے کہاکہ بجلی یا دیگر شعبوں میں سبسڈی کا نظام ٹارگٹڈ بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ بیواؤں، یتیموں، معذوروں، بیماروں اور مستحق افراد کو سہولتیں دی جانی چاہئیں جبکہ عمومی سبسڈی مالی طور پر قابل برداشت نہیں۔

انہوں نے کہاکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور مسلم کانفرنس قائداعظم محمد علی جناحؒ اور مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے نظریات پر قائم ہے۔