اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں 16 ہزار روپے تک بڑی کمی کا امکان

اسلام آباد: ملک بھر میں مختلف برانڈز کے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں 10 ہزار سے لے کر 16 ہزار روپے تک واضح کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو کم کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف برانڈز کے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں 16 ہزار روپے تک کی نمایاں کمی متوقع ہے۔ اس اقدام سے ملک بھر کے عام صارفین کو بڑے پیمانے پر مالیاتی ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کا معاملہ: نادانستہ دعوے، قائمہ کمیٹی کے فیصلوں کی حقیقت سامنے آ گئی

مارکیٹ حلقوں کا ردعمل اور لاگت میں کمی:

موبائل فون مارکیٹ سے وابستہ تجارتی حلقوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں اس کمی کے باعث درآمدی فونز کی مجموعی لاگت مارکیٹ میں نمایاں طور پر کم ہوگی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ درآمدی لاگت کم ہونے کا براہِ راست اور حتمی اثر بالآخر مارکیٹ کی خوردہ قیمتوں پر بھی مثبت انداز میں پڑے گا۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں باقاعدہ طور پر شرکت کی تھی۔ اس اہم اجلاس کے دوران انہوں نے کمیٹی کو موبائل فونز پر عائد درآمدی ڈیوٹی میں کمی لانے کی باقاعدہ یقین دہانی کرائی تھی۔

ابتدائی درجے کے فونز کے لیے مخصوص ریلیف:

چیئرمین ایف بی آر کا اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کی جانے والی یہ کمی 31 ڈالر سے لے کر 200 ڈالر مالیت کے ابتدائی درجے (انٹری لیول) کے موبائل فونز تک ہی محدود رکھی جانی چاہیے تاکہ ملک کے کم آمدنی والے اور پہلی بار اسمارٹ فون خریدنے والے عام صارفین اس ڈیوٹی ریلیف سے حقیقی طور پر استفادہ کر سکیں۔

مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ 27-2026 :مقامی طور پر تیار موبائل فونز پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مہنگے یا پریمیم کیٹیگری کے درآمدی موبائل فونز پر ڈیوٹی میں وسیع پیمانے پر کمی کرنے سے زیادہ فائدہ معاشرے کی امیر یا ایلیٹ کلاس کو پہنچے گا، جبکہ اس کے برعکس پریمیم فونز پر ڈیوٹی کم کرنے سے قومی خزانے کو بھاری اور ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔