بالوں کا غیر معمولی طور پر گرنا محض خوبصورتی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ جسم میں موجود سنگین بیماریوں کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین صحت نے سخت خبردار کیا ہے کہ اس مسئلے کا شکار مریض سب سے پہلے اپنے خون کے ضروری ٹیسٹ لازمی کروائیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق بالوں کے گرنے کو معمولی سمجھ کر ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ بعض اوقات جسمانی بیماریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام “گڈ مارننگ پاکستان” میں ڈاکٹر وسیم جمالی، ڈاکٹر بتول اشرف اور ڈاکٹر عظمیٰ حمید نے بال گرنے کی بنیادی وجوہات، علاج اور احتیاط پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
آٹو امیون بیماریاں اور موروثی وجوہات:
طبی ماہرین نے پروگرام کے دوران بتایا کہ اگرچہ مردوں میں گنج پن یا بالوں کا گرنا عموماً موروثی وجوہات کی بنا پر بھی ہو سکتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں یہ دیگر اندرونی امراض کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر وسیم جمالی کے مطابق بعض دائمی امراض، خصوصاً سسٹیمک لیوپس ایری تھیماٹوسس (SLE) جیسی آٹو امیون بیماریوں میں بالوں کا گرنا ایک نمایاں علامت ہو سکتا ہے، یہ بیماری جسم کے مختلف اعضا کو متاثر کرتی ہے اور چہرے پر سرخ دھبوں سمیت دیگر علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آم کھانے سے پہلے پانی میں بھگو کر رکھنا کیوں ضروری ہے؟ اصل وجہ سامنے آ گئی
ڈاکٹر بتول اشرف نے اس بات پر سخت زور دیا کہ بالوں کے گرنے کی شکایت کرنے والے افراد کو بغیر معائنے اور ٹیسٹ کے کبھی بھی علاج شروع نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اصل وجہ کا تعین کرنے کے لیے کمپلیٹ بلڈ کاؤنٹ (CBC)، سیرم آئرن، فیرٹین، تھائرائیڈ پروفائل اور وٹامن ڈی سمیت مختلف ٹیسٹ کروانے کی شدید ضرورت پیش آسکتی ہے۔
خون کی کمی اور جان لیوا پیچیدگیاں:
ماہرین نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ خون کی کمی (انیمیا) بھی بالوں کے گرنے کی ایک انتہائی اہم وجہ ہے، لیکن خون کی کمی صرف آئرن کی کمی سے نہیں ہوتی بلکہ وٹامن بی 12، فیرٹین اور دیگر غذائی اجزا کی کمی بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ حمید کا کہنا تھا کہ خون کی کمی کی اصل وجہ جاننا ضروری ہے، کیونکہ بعض اوقات جسم میں خون بن نہیں رہا ہوتا یا کسی اندرونی مسئلے کے باعث ضائع ہو رہا ہوتا ہے۔ شدید خون کی کمی دل کی دھڑکن متاثر کرنے سمیت جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ضروری نہیں کہ بالوں کا گرنا ہر بار کسی خطرناک بیماری کی علامت ہو، تاہم اسے ہلکا لینے کے بجائے بروقت طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کروانا ہی دانش مندی ہے۔ اگر ٹیسٹوں میں کوئی سنگین مسئلہ سامنے نہ آئے تو اطمینان حاصل ہو جاتا ہے جبکہ بیماری کی صورت میں بروقت علاج ممکن ہو جاتا ہے۔



