موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کا معاملہ: نادانستہ دعوے، قائمہ کمیٹی کے فیصلوں کی حقیقت سامنے آ گئی

پاکستان میں موبائل فون صارفین اور نئی ڈیوائسز خریدنے والوں کے لیے پی ٹی اے (PTA) ٹیکسز اور ریگولیٹری ڈیوٹی کے حوالے سے ایک انتہائی بڑی اور اہم خبر سامنے آئی ہے جس نے سوشل میڈیا اور مارکیٹ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن قاسم گیلانی کی جانب سے ملک میں موبائل فونز کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی مکمل ختم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم دوسری جانب اس فیصلے کی سچائی اور اصل حقائق اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں درآمد شدہ فونز پر حکومت کی جانب سے بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز عائد کیے جاتے ہیں جن کی وصولی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مرہونِ منت ہوتی ہے۔ ملک میں صارفین کو اپنے باہر سے منگوائے گئے فونز کو لازمی رجسٹر کرنا پڑتا ہے اور وہ ان قیمتی ڈیوائسز پر بھاری ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ادا کیے بغیر اپنے سِم کارڈز استعمال کرنے سے بالکل قاصر رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی بجٹ 27-2026 :مقامی طور پر تیار موبائل فونز پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز

قاسم گیلانی کا سوشل میڈیا پر بڑا دعویٰ:

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی قاسم گیلانی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کے ذریعے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے مکمل خاتمے کا اچانک اعلان کیا۔ اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل رابطے بڑھانے کے لیے انتہائی مثبت ثابت ہوگا اور اس سے عام عوام کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے میں بڑی آسانی پیدا ہوگی۔ تاہم، ان کے اس بڑے دعوے کی اب تک کسی بھی سرکاری سطح یا متعلقہ ادارے کی جانب سے باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا موقف اور اصل صورتحال:

یہ بات انتہائی اہم ہے کہ قاسم گیلانی اگرچہ ایوانِ زیریں (قومی اسمبلی) کے معزز رکن ضرور ہیں، لیکن وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کے رکن نہیں ہیں۔ یہ وہی کمیٹی ہے جو اس وقت نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ پر تفصیلی غور و غوض کرنے اور اس حوالے سے اپنی حتمی سفارشات کو تیار کرنے میں مصروف عمل ہے، اور خود قائمہ کمیٹی کی جانب سے ڈیوٹی کے مکمل خاتمے پر کوئی باقاعدہ موقف اب تک سامنے نہیں آیا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس اہم ترین معاملے پر قائمہ کمیٹی کے اراکین سے براہِ راست رابطہ کیا گیا تو اصل صورتحال واضح ہوئی۔ اراکین کے مطابق کمیٹی میں ریگولیٹری ڈیوٹی میں صرف کچھ رعایت دینے پر بات چیت ہوئی ہے، لیکن ڈیوٹی کو سرے سے ہی مکمل ختم کرنے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں آئی فونز ،سام سنگ کے فلیگ شپ فون سستے ہونے کا امکان

201 ڈالر سے زائد مالیت کے فونز پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ:

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے حوالے سے کیا طے پایا؟ اس بارے میں قائمہ کمیٹی کے سرگرم رکن ارشد وہرہ نے بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے تمام تفصیلات سے پردہ اٹھایا۔ ارشد وہرہ نے بتایا کہ یہ معاملہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں تفصیلی طور پر زیر بحث آیا تھا اور اس دوران موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کے مختلف سلیبز (slabs) میں رعایت دینے پر سنجیدگی سے بات ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح کے لیے مختلف سلیبز موجود ہیں، تاہم کمیٹی کے اندر صرف 201 ڈالر سے زیادہ قیمت کے حامل موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو کم کرنے کی بات پر حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔