وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کے رہنماؤں کو معافی دینے کا امکان مسترد کردیا ہے۔
مائیکروبلاگنگ سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ثالثی کی اپیل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے حکومت کا پہلے دن سے قائم مؤقف درست ثابت ہو گیا ہے کہ مسائل صرف میز پر بیٹھ کر حل ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کیخلاف سخت عوامی ردعمل: ہجیرہ راولاکوٹ سڑک زبردستی کھلوا دی
مولانا فضل الرحمان نے اپنے ویڈیو پیغام میں ثالثی کی اپیل قبول کرتے ہوئے کمیٹی سے دھرنا موخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ آزاد کشمیر حکومت کو بات چیت پر آمادہ کیا جا سکے۔
وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے پیغام میں کہا کہ کیا یہ وہی بات نہیں ہے جو ہم پہلے دن سے ان سے کہہ رہے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ان سے مذاکرات کا راستہ نہ چھوڑنے کی اپیل کی لیکن انہوں نے لچک کا ذرا سا بھی مظاہرہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے خود متعدد مرتبہ ان سے لاک ڈاؤن ختم کرنے، احتجاجی مہم روکنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی ذاتی اپیلیں کیں لیکن انہوں نے ان تمام کوششوں کو یکسر نظرانداز کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:عوام کی عدم دلچسپی ، کالعدم ایکشن کمیٹی کے غبارے سے ہوا نکل گئی، احتجاج موخر کرنے کا اعلان
وزیراعظم فیصل راٹھور نے کالعدم تنظیم کے تضاد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے امور میں نام نہاد ‘سیاسی مداخلت’ کے خلاف نعرے لگانے کے بعد اب یہی لوگ ثالثی کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعت جے یو آئی کے محترم رہنما مولانا فضل الرحمان کے پاس پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس پورے معاملے میں کسی قسم کی ثالثی کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی، لیکن کالعدم ایکشن کمیٹی نے ریاست کو دھمکانے اور بلیک میل کرنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔




