ترکیہ میں ٹرمپ ایرانی نشانے پرآگئے،خفیہ طور پر برطانیہ منتقل کیا،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

نیویارک ٹائمز نے رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ایران کی جانب سے ممکنہ خطرے کے پیش نظر ایک انتہائی خفیہ اور غیر معمولی منصوبے کے تحت ترکی سے نکال کر برطانیہ منتقل کیا گیا۔

حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی عہدیداروں نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ 8 جولائی کو ترکی سے روانہ ہوتے وقت قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے جدید لگژری بوئنگ 747-8 کے بجائے ایئر فورس ون کے پرانے ورژن میں سفر کریں گے۔ اس موقع پر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ ’’پرانے وقتوں کی یاد تازہ کرنے‘‘ کے لیے پرانے طیارے میں سفر کر رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شام:سابق صدر بشار الاسد کو کزن سمیت سزائے موت کا حکم

کیمروں کے سامنے ٹرمپ پرانے ایئر فورس ون کے بائیں جانب والے دروازے سے طیارے میں سوار ہوئے، جس کے بعد متعدد میڈیا اداروں، جن میں نیویارک ٹائمز بھی شامل تھا، نے رپورٹ کیا کہ صدر اسی طیارے کے ذریعے برطانیہ گئے، جہاں انہوں نے دوبارہ نئے طیارے میں منتقلی کی۔

اس وقت نیویارک ٹائمز نے یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ پرانے طیارے میں سفر کرنے کا فیصلہ جزوی طور پر قطر کی جانب سے عطیہ کیے گئے نئے طیارے کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات کے باعث کیا گیا، کیونکہ اس میں ایئر فورس ون کے پرانے ورژنز میں موجود تمام دفاعی صلاحیتیں نصب نہیں کی گئی تھیں۔

تاہم دو امریکی حکام کے مطابق حقیقت اس سے مختلف تھی۔ صدر ٹرمپ دراصل اس پرانے نیلے رنگ کے ترمیم شدہ بوئنگ 747 میں سفر ہی نہیں کر رہے تھے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق انہیں ایک کیٹرنگ کنٹینر کے ذریعے خفیہ طور پر طیارے سے نکالا گیا۔ یہ کنٹینر طیارے کے اس حصے پر لگایا گیا تھا جو اس جانب کے بالکل مخالف تھا جہاں صحافی طیارے میں سوار ہوئے تھے۔

صدر ٹرمپ کو اس کے بعد ایک تیسرے طیارے تک منتقل کیا گیا، جس کے ذریعے وہ مکمل خفیہ انداز میں ترکی سے برطانیہ پہنچے۔ اس کارروائی سے واقف امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر کا اصل سفر انتہائی رازداری میں رکھا گیا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایل اے 15 وسطی باغ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار ضیاء القمر کی شاندار کامیابی

رپورٹ کے مطابق پرانے ایئر فورس ون میں سفر کرنے والے صحافیوں کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ ان کے ساتھ موجود نہیں ہیں۔ یوں صحافی اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکار غیر ارادی طور پر اس خفیہ منصوبے کا حصہ بن گئے اور انہوں نے انجانے میں ’’ڈیکوائے‘‘ یا دھوکا دینے والے کردار کے طور پر کام کیا۔

برطانیہ پہنچنے کے بعد صدر ٹرمپ کو دوبارہ خفیہ انداز میں ایئر فورس ون کے پرانے ورژن میں منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں وہ صحافیوں کے سامنے اسی طیارے سے اترے اور رن وے پر چلتے ہوئے قطر کی جانب سے عطیہ کیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے تک گئے، جس کے ذریعے انہوں نے واشنگٹن کا سفر کیا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ پیچیدہ اور غیر معمولی منصوبہ چند گھنٹوں کے اندر تیار کیا گیا، جب سیکیورٹی حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ اور ایئر فورس ون کو لاحق خطرہ قابلِ اعتبار ہے۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب برسوں سے ایران کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے باعث کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی امریکی صدر کی نقل و حرکت کے بارے میں عوام کو گمراہ کرنے کی یہ ایک غیر معمولی مثال ہے۔ امریکی حکام نے اس سے قبل کبھی یہ تسلیم نہیں کیا تھا کہ صدر ٹرمپ اس مقام پر موجود نہیں تھے جہاں ان کے موجود ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔