مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں آئندہ عام انتخابات کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد نظر انداز کئے جانے والے درجنوں وفادار رہنماؤں اور امیدواروں نے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مشاورت کا عمل تیز کر دیا ہے۔
مسلم لیگ ن نے قرآن پاک پر وفاداری کا حلف لیکر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں کو بھی ٹکٹ دیدیئے۔
ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر بھر سے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ایسے امیدوار، جنہیں پارٹی کی جانب سے انتخابی ٹکٹ جاری نہیں کئے گئے۔
ذرائع کےمطابق نظرانداز کئے گئے امیدواروں کا پارٹی سے علیحدگی اور آئندہ انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے کے امکانات پر غور کرنے کا فیصلہ ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:20 سالہ کشمیری نژاد فلک راجہ دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کی سفیر منتخب
ذرائع کے مطابق مختلف حلقوں کے امیدواروں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ امیدوار باہمی مشاورت کے بعد جلد اپنے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
اس حوالے سے دو اہم آپشنز زیر غور ہیں؛ یا تو یہ رہنما استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے انتخابات میں حصہ لیں گے، یا پھر آزاد امیدواروں کے طور پر میدان میں اتریں گے۔
ذرائع کے مطابق اگر انتخابات میں کامیابی ملتی ہے تو پھر اس وقت جو پارٹی اقتدار میں آتی ہے میں شامل ہو جائیں ۔یا پھر نئی پارٹی تشکیل دے کر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں
نظر انداز کئے جانے والوں میں کھاورڑہ سے راجہ عبد القیوم مظفر آبادسے مرتضی گیلانی ڈڈیال سے راجہ شعیب عابد،چکسواری سے کرنل معروف کھڑی سے راجہ ظفر کھوئی رٹہ سے راجہ شاداب کوٹلی سے ملک نواز ،چڑھوئی سے نعیم منصف داد، سہنسہ سے راجہ افتخار، کوٹلی شہر سے ملک یوسف شامل ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے مشہور انتشاری احمد فرہاد باغ سے گرفتار ، جدید اسلحہ برآمد
اسی طرح حلقہ شرقی سے اعجاز کھٹانہ وسطی باغ سے راجہ یاسین ،بریگیڈئیر محمد خان اس گروپ میں شامل ہیں جبکہ دیوان علی چغتائی، نکیال سے آصف کیلوی اور حویلی کہوٹہ سے خواجہ سعید بھی اس گروپ میں شامل ہیں۔
تاہم گزشتہ روز نامور سیاسی شخصیت حلقہ وسطی باغ سے راجہ یاسین ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں اور مرتضیٰ گیلانی نے آج پریس کانفرنس کر کے اپنے تحفظات بارے میڈیا کو آگاہ کردیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنماؤں کے فیصلے آئندہ انتخابات میں بعض حلقوں کے سیاسی منظرنامے پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتے ہیں اور مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈرز کو الیکشن میں ٹف ٹائم مل سکتا ہے۔




