آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم پر پیدا ہونے والے شدید اختلافات اب کھل کر سامنے آگئے ہیں اور پارٹی کے اندر ایک بڑا سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ حلقہ وسطیٰ باغ سے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ نہ ملنے پر سابق سینئر پارلیمنٹیرین راجہ محمد یاسین خان نے پارٹی قیادت کے فیصلے پر سخت ترین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے میدان میں آنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
راجہ محمد یاسین خان نے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت پر شدید وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری طور پر جاری کردہ انتخابی ٹکٹ پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر سوال اٹھایا ہے کہ جب ان سے الیکشن میں پارٹی امیدوار بنانے کا پکا وعدہ کیا گیا تھا، تو پھر ان کے بجائے مشتاق منہاس کو ٹکٹ کیوں جاری کیا گیا، جس کے بعد حلقہ وسطیٰ باغ میں پارٹی کا سیاسی درجہ حرارت انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر: الیکشن سرگرمیاں تیز، نامزدگیوں کا سلسلہ جاری، 755 امیدوار سامنے آگئے
پارٹی قائدین اور نواز شریف کے وعدے کا دعویٰ:
سابق سینئر پارلیمنٹیرین راجہ محمد یاسین خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں انہیں پارٹی کا باقاعدہ امیدوار بنانے کی یقین دہانی اور وعدہ نہ صرف مشتاق منہاس نے خود کرایا تھا بلکہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، جنرل سیکرٹری چوہدری طارق فاروق، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان، ڈاکٹر نجیب اور دیگر تمام مرکزی رہنماؤں نے بھی اس اہم ترین وعدے کی مکمل توثیق کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں پارٹی کے ذمہ داران نے یہ بتایا تھا کہ یہ صرف کوئی انفرادی وعدہ نہیں بلکہ جماعتی سطح پر کیا گیا ایک حتمی فیصلہ ہے، جسے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی تائید بھی پوری طرح حاصل ہے۔
وعدہ خلافی اور میرٹ کے منافی فیصلے پر شدید تحفظات:
راجہ محمد یاسین خان کے مطابق انہوں نے اسی جماعتی یقین دہانی اور میاں نواز شریف کے نام پر کیے گئے وعدے کی بنیاد پر ہی پارٹی ٹکٹ کے لیے باقاعدہ درخواست دی تھی، تاہم قیادت نے ان کے ساتھ کھلی وعدہ خلافی کرتے ہوئے ان کے بجائے مشتاق منہاس کو ٹکٹ جاری کر دیا ہے جس پر انہیں اور ان کے حامیوں کو شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے ٹکٹ کے اس فیصلے کو میرٹ کے صریحاً منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد بار آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے معزز رکن منتخب ہو چکے ہیں اور پورے حلقے میں انتہائی مضبوط عوامی حمایت رکھتے ہیں، جبکہ سال 2023 کے ضمنی انتخاب میں مشتاق منہاس کی انتخابی مہم میں بھی ان کے ذاتی ووٹ بینک نے ہی کامیابی کے لیے کلیدی اور بنیادی کردار ادا کیا تھا۔
“مشتاق منہاس جیتنے کی پوزیشن میں نہیں، گراؤنڈ سروے کرایا جائے”:
راجہ محمد یاسین خان نے مشتاق منہاس کی انتخابی مقبولیت کو چیلنج کرتے ہوئے دوٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر مشتاق منہاس حلقہ وسطیٰ باغ سے کسی بھی صورت کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لیے قیادت فوری طور پر یہاں گراؤنڈ سروے کروا کر خود حقیقت دیکھ لے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ خود پارٹی کے اندرونی طور پر کیے گئے خفیہ سروے بھی اسی حقیقت کی واضح نشاندہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے پرزور اپیل کی ہے کہ حلقہ وسطیٰ باغ کے ٹکٹ کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے تاکہ پارٹی کے وسیع تر مفاد اور انتخابی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اگر اس اہم حلقے کا بروقت فیصلہ نہ ہوا تو مسلم لیگ (ن) کی انتخابی حکمت عملی پر اس کے انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔




