آزاد کشمیر میں نیا سیاسی بلاک؟ پیپلز پارٹی اور جمعیت اہلحدیث کے درمیان انتخابی اتحاد کا امکان

آزاد کشمیر کی سیاسی فضا میں بڑی ہلچل پیدا ہو گئی ہے جہاں آئندہ عام انتخابات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مرکزی جمعیت اہلحدیث کے درمیان ایک بڑے انتخابی اتحاد کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ایک اہم مشاورتی بیٹھک ہوئی ہے جس میں مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

سفارتی و سیاسی ذرائع کے مطابق، جمعیت اہلحدیث پاکستان کے صدر علامہ احتشام الٰہی ظہیر نے صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چودھری لطیف اکبر اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے معاملات کے انچارج چودھری محمد ریاض سے ایک اہم اور خصوصی ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی بیٹھک میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، آنے والے عام انتخابات اور باہمی تعاون کی یادداشت پر گہرائی سے گفتگو کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیرانتخابات!عباسپور سے چوہدری یاسین گلشن، جاوید چوہدری اور اسامہ بن زاہد کے کاغذات جمع

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج پر تفصیلی تبادلہ خیال:

ملاقات کے دوران آزاد کشمیر کے داخلی حالات اور امن و امان کی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس گفتگو میں بالخصوص آزاد کشمیر بھر میں جاری کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حالیہ احتجاج، اس کے ریاست پر اثرات اور پیدا ہونے والی کشیدگی کے حوالے سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس معاملے پر مشاورت کی گئی۔

انتخابی جوڑ توڑ اور مستقبل کا لائحہ عمل:

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور جمعیت اہلحدیث کی قیادت کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابی دنگل میں نئے سیاسی اتحادوں کو جنم دے سکتی ہے۔ چودھری لطیف اکبر اور چودھری محمد ریاض کے ساتھ علامہ احتشام الٰہی ظہیر کی اس بیٹھک کے بعد دونوں جماعتوں کے کارکنان میں جوش و خروش بڑھ گیا ہے، جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کی نظریں بھی اس ممکنہ انتخابی گٹھ جوڑ پر ٹک گئی ہیں جو آنے والے دنوں میں خطے کا سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: آزادکشمیر: الیکشن سرگرمیاں تیز، نامزدگیوں کا سلسلہ جاری، 755 امیدوار سامنے آگئے