حکومتِ پاکستان نے ملک بھر کے موٹرویز اور قومی شاہراہوں (نیشنل ہائی ویز) پر سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں، ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹرز کے لیے ایک انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سابقہ حدِ رفتار (اسپیڈ لمٹ) کو دوبارہ بحال کرنے کا باقاعدہ حکم دے دیا ہے۔ اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس فیصلے کا بنیادی مقصد مسافروں کے سفر کو مزید سہل بنانا، وقت کی بچت کرنا اور ملک بھر میں لاجسٹکس کی روانی کو تیز کرنا ہے۔
حکومتی احکامات کے بعد اب موٹرویز پر کاروں اور دیگر تمام ہلکی گاڑیوں کے لیے حدِ رفتار کو دوبارہ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ مسافر بسوں، ویگنوں اور بھاری گاڑیوں کے لیے بھی پرانی حدِ رفتار یعنی 110 کلومیٹر فی گھنٹہ بحال ہو گئی ہے۔ وزارتِ مواصلات کے مطابق، موٹرویز کے ساتھ ساتھ قومی شاہراہوں (جی ٹی روڈ وغیرہ) پر بھی تمام چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کے لیے سابقہ طے شدہ حدِ رفتار کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں: تازہ ترین ریٹس جاری
موٹروے پولیس کا فوری ایکشن اور اسپیڈ کیمروں کی اپ گریڈیشن:
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے حکومت کے اس فیصلے پر ملک بھر کے تمام موٹرویز اور شاہراہوں پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کروا دیا ہے اور تمام اسپیڈ کیمروں کے خودکار نظام کو نئی (سابقہ) حدِ رفتار کے مطابق اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان موٹروے پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ سفر میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت بدستور ہماری اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام ڈرائیورز مقررہ حدِ رفتار سے تجاوز نہ کریں، ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کریں اور دورانِ سفر سیٹ بیلٹ کا استعمال لازمی بنائیں۔
حدِ رفتار میں کمی کا تنازع اور عوامی مطالبات:
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران موٹروے پولیس اور انتظامیہ نے حادثات میں کمی لانے اور ایندھن کی بچت کے نام پر موٹرویز کے مختلف سیکشنز پر حدِ رفتار کو 120 کلومیٹر سے گھٹا کر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود کر دیا تھا، جبکہ مسافر بسوں کے لیے بھی اسپیڈ لمٹ کم کی گئی تھی۔ اس فیصلے کے باعث طویل مسافت کا سفر کرنے والے شہریوں، کاروباری طبقے اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا کیونکہ اس سے سفر کا دورانیہ بڑھ گیا تھا اور جدید موٹرویز کا اصل مقصد بھی متاثر ہو رہا تھا۔ عوامی مطالبات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت نے اب اس فیصلے کو واپس لیتے ہوئے بین الاقوامی معیار کے مطابق پرانی اسپیڈ لمٹ کو دوبارہ لاگو کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکامذاکرات، وزیراعظم، فیلڈ مارشل بطور ثالث سوئٹرز لینڈ پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر شاندار استقبال
جدید انفراسٹرکچر، وقت کی بچت اور معاشی اثرات:
لاہور تا اسلام آباد یا کراچی تا سکھر جیسے طویل موٹرویز پر کاروں کے لیے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار بحال ہونے سے مسافروں کے قیمتی گھنٹوں کی بچت ہوگی۔ لاجسٹکس اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے مسافر اور بھاری گاڑیوں کی اسپیڈ 110 کلومیٹر ہونا مصنوعات کی ملک بھر میں بروقت ترسیل کو یقینی بنائے گا، جس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کے موٹرویز دنیا کے بہترین روڈ انفراسٹرکچر میں شمار ہوتے ہیں جو سائنسی طور پر 120 کلومیٹر کی رفتار کو محفوظ طریقے سے برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، اور جدید گاڑیاں بھی کروز کنٹرول اور جدید بریکنگ سسٹم کے ساتھ اسی رفتار پر بہترین توازن فراہم کرتی ہیں۔




