کالعدم ایکشن کمیٹی کا ریاستی انتشار مسترد: پاکستان کی بقا اولین ترجیح ہے، کشمیری قیادت کا وفاقی دارالحکومت میں اہم اعلان

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر کی تمام مقتدر اور صفِ اول کی سیاسی جماعتوں کے ممتاز رہنماؤں نے وفاق کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اہم اور مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہمارے آپس میں سیاسی اختلافات ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن ریاستِ پاکستان کی بقا اور سلامتی ہماری اولین ترین ترجیح ہے۔ اس ہائی پروفائل مشترکہ پریس کانفرنس میں سابق وزیرِ اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان، پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی مرکزی خاتون رہنما نبیلہ ایوب اور کرنل شیراز سمیت دیگر اہم قائدین نے شرکت کی اور خطے کی موجودہ سیاسی و امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

تصادم کا سدِباب، اربوں روپے کا نقصان اور سزاؤں کا مطالبہ:

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم سردار عتیق احمد خان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے حالات کو مزید کسی بڑے تصادم کی طرف جانے سے بروقت اور دانشمندانہ اقدامات کے ذریعے روک لیا گیا ہے۔ انہوں نے انتہائی افسوسناک انکشاف کیا کہ حالیہ بدامنی اور انتشار کے نتیجے میں ریاست کو 3 سے 4 ارب روپے کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ 17 قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں۔ انہوں نے سخت اور دوٹوک لہجہ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ خطے میں فتنہ و فساد پھیلانے والے شرپسند عناصر قانون کے شکنجے سے کسی صورت نہیں بچ سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے باسی بنیادی طور پر پکے محبِ وطن ہیں، لیکن کچھ مخصوص عناصر انہیں ریاستِ پاکستان کے خلاف اکسا رہے ہیں جس کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سردار عتیق نے پرزور مطالبہ کیا کہ پاک فوج میں بغاوت کا مطالبہ کرنے والے غداروں کو چوک پر سرِعام پھانسی دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:9 مئی کیس: شاہ محمود قریشی مقدمے سے بری، دیگر قیادت کو 10، 10 سال قید کی سزا

پاک فوج کا کشمیریوں پر اعتماد اور حرمین شریفین کا دفاع:

سردار عتیق احمد خان نے مزید کہا کہ پاکستان کے انتہائی حساس سرحدی اور دفاعی علاقوں کی حفاظت کی اہم ترین ذمہ داری پاک فوج نے کشمیریوں کی حب الوطنی پر کامل یقین کرتے ہوئے ان کے سپرد کر رکھی ہے، جو کہ پاکستان کا کشمیری عوام پر بھروسے کا سب سے بڑا اور واضح تاریخی ثبوت ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ آج پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف ملک کی جغرافیائی سرحدوں بلکہ حرمین شریفین کے دفاع میں بھی اپنا تاریخی اور کلیدی کردار بخوبی ادا کر رہی ہیں، جو پوری مسلم امہ سمیت پاکستانی قوم کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

وفاق کا سستا آٹا، بجلی کا پیکیج اور اسپتالوں پر وحشیانہ حملے:

اس موقع پر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے آزاد کشمیر کے عوام کی معاشی تکالیف کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہیں خود پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سستا آٹا اور سستی بجلی فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی محض انتشار پھیلانے کی ناپاک کوشش کر رہی ہے، جبکہ ریاست کے 99 فیصد لوگ آج بھی پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور پکے محبِ وطن ہیں۔ شاہ غلام قادر نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان انتشار پسند عناصر نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اسپتالوں تک کو نشانہ بنایا اور پاک فوج میں خدمات انجام دینے والے غیرت مند کشمیری جوانوں کو بغاوت پر اکسانے کی گھناؤنی بات کی، جو کہ انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔

پیپلز پارٹی کا مؤقف اور ریاست کی عدم رعایت کی وارننگ:

پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی رہنما نبیلہ ایوب نے پریس کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کا ہر جوان ہمارے ملک کی دفاعی سرحدوں کا حقیقی محافظ ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ فوج میں بغاوت کا مطالبہ کرنے والے شرپسندوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ جانی چاہیے کہ اب ریاست ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت یا نرمی نہیں برتے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان مخالف ایجنڈا محض چند گنے چنے لوگوں کا ہے جو بیرونی اشاروں پر کام کر رہے ہیں، اس سے عام کشمیری عوام کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے کشمیریوں کو ایسے عناصر سے خود کو فوری الگ کر لینا چاہیے۔

مزید پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کا سرکس بند،شاطروں کا کھیل اب ختم ہوچکا، وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور

پریس کانفرنس میں ناقابلِ تردید ویڈیو ثبوتوں کی پیشکش:

پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے نمائندوں کے سامنے ایک خصوصی دستاویزی ویڈیو بھی چلائی گئی، جس میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں پر کیے جانے والے وحشیانہ تشدد اور ریاست مخالف بیانیے کے تمام ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیے گئے۔ ویڈیو میں واضح طور پر دکھایا گیا کہ کس طرح یہ شرپسند عناصر پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے تھے اور امن و امان کو تباہ کرنے کی سازشوں میں مصروف تھے۔

احتجاج کا پسِ منظر اور تحریک کا رخ موڑنے کی سازش:

واضح رہے کہ آزاد جموں کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصے سے بجلی کے بلوں، آٹے پر سبسڈی اور تعمیراتی منصوبوں کے حوالے سے مقامی عوامی ایکشن کمیٹیوں کی جانب سے احتجاجی تحریک چلائی جا رہی تھی۔ اگرچہ حکومتِ پاکستان نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے اربوں روپے کا خصوصی پیکیج دیا جس کے تحت آٹا اور بجلی سستی کر دی گئی، لیکن اس تحریک کے پیچھے موجود چند مخصوص عناصر نے مبینہ طور پر اس عوامی احتجاج کا رخ موڑ کر اسے ریاست مخالف اور فوج مخالف رنگ دینے کی کوشش کی۔ اسپتالوں پر حملے، سیکیورٹی فورسز کے ساتھ خونی جھڑپیں جن میں 17 افراد ہلاک ہوئے، اور 3 سے 4 ارب کا املاک کا نقصان اسی بدامنی کا نتیجہ ہے۔ اس سنگین صورتحال کے بعد حکومت نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے کر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا اور اب تمام کشمیری سیاسی جماعتیں وفاق کے ساتھ مل کر اس بیانیے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے متحد ہو چکی ہیں۔

سیاسی اتحاد، اسٹریٹجک یکجہتی اور عوامی مطالبات:

آزاد کشمیر کی سیاست عام طور پر شدید دھڑے بندیوں کا شکار رہتی ہے، جہاں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور سردار عتیق کی مسلم کانفرنس ایک دوسرے کی سخت حریف ہیں۔ ان تمام جماعتوں کا اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان اور پاک فوج کے حق میں پریس کانفرنس کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ جب بات ملکی سلامتی اور ریاستی رٹ کی ائے گی تو پوری کشمیری قیادت ایک پیج پر کھڑی ہے۔ اس سے پاکستان مخالف عناصر کا یہ پروپیگنڈا دم توڑ گیا ہے کہ کشمیری عوام وفاق سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔

شاہ غلام قادر کا یہ بیان کہ پاکستان کے مقابلے میں سستا آٹا اور بجلی دی گئی، معاشی حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے بھاری سبسڈی دی ہے۔ جب جائز معاشی مطالبات پورے ہو چکے ہوں اور اس کے باوجود اسپتالوں پر حملے کیے جائیں یا فوج میں بغاوت کی باتیں کی جائیں، تو یہ خالصتاً ایک سیاسی اور جیو پولیٹیکل ایجنڈا بن جاتا ہے جس کا مقصد خطے میں سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔

ریاستی رٹ اور مستقبل کے چیلنجز:

پریس کانفرنس کے دوران ویڈیو ثبوتوں کا پیش کیا جانا اور 3 سے 4 ارب کے نقصان کا تذکرہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اب ان عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی اور عدالتی کارروائی کی تیاری کر چکی ہے۔ اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ ریاست ان چند شرپسندوں کو کیفرِ کردار تک پہنچاتے ہوئے 99 فیصد امن پسند اور محبِ وطن کشمیری عوام کے حقوق کا تحفظ کیسے یقینی بناتی ہے، تاکہ مستقبل میں کسی کو ایسی سستی شہرت اور انتشار پھیلانے کے مواقع نہ مل سکیں۔

جرائم کا ارتکاب کرنے والے قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکتے.سردار عتیق pic.twitter.com/VY2PwsaAMb