فرانس میں منعقد ہونے والے جی 7 اجلاس کے اہم ترین موقع پر تصویر بنوانے کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی کے درمیان ایک شدید اور نیا سفارتی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اطالوی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ اطالوی وزیراعظم نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے بہت زیادہ “اصرار اور منت سماجت” کی تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق وہ خود یہ تصویر بالکل نہیں بنوانا چاہتے تھے لیکن بعد میں “انہیں ترس آ گیا” اور انہوں نے تصویر بنوا لی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس متنازع بیان پر اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی نے انتہائی سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر کے دعوے کو سراسر جھوٹ پر مبنی، بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ اطالوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر شدید حیران ہیں کیونکہ اس کی حقیقت سے کوئی مطابقت نہیں ہے اور یہ مکمل طور پر بے بنیاد بات کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنکی قابل تعریف ہے، ٹرمپ
دیرینہ اتحادیوں کے ساتھ مایوس کن رویہ اور سخت ردعمل:
جورجیا میلونی نے امریکی صدر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کہا کہ بعض مواقع پر انہیں واقعی شدید حیرت ہوتی ہے کہ امریکی صدر اپنے دیرینہ اور پرانے اتحادیوں کے مقابلے میں ہمیشہ مخالف ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ زیادہ نرمی، عاجزی اور احترام سے پیش آتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی صدر کا یہ مخصوص رویہ اٹلی کیلئے انتہائی مایوس کن ہے اور وہ یا ان کا ملک اٹلی کبھی بھی کسی سے ایسی بھیک نہیں مانگتے۔ انہوں نے اپنے جاری کردہ باقاعدہ بیان میں واضح طور پر کہا کہ “یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ایسے من گھڑت دعوے سامنے آئے ہیں، لیکن حقیقت ہمیشہ اس کے برعکس ہوتی ہے۔”
اطالوی وزیر خارجہ کا دورہ امریکہ منسوخ اور احتجاج:
دوسری جانب اس بڑے سفارتی تنازع کے کھڑے ہونے کے بعد اطالوی وزیر خارجہ نے فوری طور پر اپنا دورہ امریکا منسوخ کرنے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیان کو انتہائی “توہین آمیز” قرار دے دیا ہے۔ اطالوی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک باقاعدہ بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ نہ صرف اطالوی وزیراعظم بلکہ پورے اٹلی کی خودمختاری اور عزت کی کھلی توہین ہیں جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ لفظی جنگ اب بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔




