فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو ایک ہی وقت میں ’فرشتہ‘ اور ’قاتل‘ قرار دئیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے ۔
سفارتی محاذ سے لے کر عوامی حلقوں تک اس بیان کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ پر صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے ۔
تجارت اور باہمی تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے نریندر مودی کی شخصیت کے دو بالکل متضاد پہلو پیش کیے ۔
ان کا کہنا تھاکہ مودی دنیا کے سخت ترین مذاکرات کاروں میں سے ایک ہیں ۔ وہ دیکھنے میں بہت معصوم، خوبصورت اور بالکل کسی فرشتے کی طرح لگتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ انتہائی سخت، بے رحم اور ایک قاتل (ٹف ڈیلر) ہیں ۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مودی حکومت کے ناقدین کو ایک نیا موقع مل گیا ۔
متعدد صارفین نے ماضی کی تاریخ دہراتے ہوئے یاد دلایا کہ گجرات فسادات میں مبینہ کردار کی وجہ سے ہی ماضی میں امریکا نے نریندرمودی کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا امن کیلئے پرعزم ،تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع ہے، ٹرمپ
کچھ صارفین نے طنزیہ اور سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے مودی کی اقلیتی پالیسیوں اور عوامی اقدامات پر تنقید کی اور انہیں موت کا فرشتہ تک کہہ ڈالا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ٹرمپ کے منہ پر قاتل کہنے کے باوجود مودی کے پاس خاموشی سے مسکرانے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بیان نے دونوں رہنماؤں کے درمیان نظر آنے والی مبینہ دوستی کی قلعی بھی کھول دی ہے ۔
مبصرین اور صارفین کا کہنا ہے کہ دونوں لیڈران کے درمیان نہ تو کوئی حقیقی احترام موجود ہے اور نہ ہی اعتماد ۔
بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا مودی کو پہلے فرشتہ اور پھر قاتل کہنا دراصل ایک سوچی سمجھی سفارتی چال ہے تاکہ مستقبل میں بھارت پر تجارتی یا سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے ۔
ایک صارف نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ بھارتی قیادت واشنگٹن سے وہ احترام حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وہ حقدار تھی، اور اس قسم کے بیانات سے عالمی سطح پر ملک کا مذاق بن رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جی سیون اجلاس : بھارتی وزیراعظم مودی امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے سرجھکائے بیٹھے رہے
سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد کا یہی ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان کوئی تعریفی کلمات نہیں تھے بلکہ انہوں نے انتہائی طنزیہ اور تحقیر آمیز انداز میں بھارتی وزیرِاعظم کی شخصیت اور ان کی سخت گیر پالیسیوں کا مذاق اُڑایا ہے ۔




