مظفرآباد کے شہری راجہ مامون فہد نے اپنے ویڈیو بیان میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کے انتشاری سوچ کو بے نقاب کردیا ۔
بہت سے لوگ بھڑکیں مارتے تھے ہم ریاست کیساتھ یہ کریں گے وہ کریں گے مگر جب ریاست نے رگڑا دیا تو برداشت کرو اب روتے کیوں ہو؟
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کےسوشل میڈیا ایکٹویسٹ کے گرد گھیرا تنگ،مانیٹرنگ سیل قائم
راجہ مامون فہد کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جنہوں نے 9 جون کی کال پر گانوں پر ریلز بنائی نوجوانوں کو اکسایا آج آرام سے خود گھر بیٹھے ہیں۔
راجہ مامون فہد کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر میں 6 جون سے حالات خراب ہیں ، اشیائے خوردونوش ختم ہورہی ہیں، شہری محصور ہوکر رہ گئے، کاروبار زندگی معطل ہے ،
آزادکشمیر کے لوگ ذہنی کوفت کا شکار ہیں ، میں کافی دنوں سے حالات کا جائزہ لے رہا ہوں کہ آزادکشمیر کو انتشار کا شکار کرنیوالے لوگ اب کہاں ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ ن آزادکشمیر پارلیمانی پارٹی اجلاس ،نوازشریف کی کشمیری عوام سے پرامن رہنے کی اپیل
ان لوگوں نے جن کو میں بڑے قریب سے جانتا ہوں انہوں نے احتجاج کی کال سے قبل عجیب وغریب پوسٹیں کرکے لوگوں کے بچوں کو اشتعال دلا کر خود گھروں میں بیٹھ گئے اور لوگوں کے بچوں کو مروادیا ۔
راجہ مامون فہد کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو ریاست میں انتشار پھیلا کر کیا ملا ، الٹا ریاست کو معاشی ، معاشرتی اور تعلیمی طور پر شدید نقصان پہنچایا ۔ آج ان لوگوں میں سے جنہوںنے نوجوانوں کو اشتعال دلایا وہ آج گھروں میں گھس گئے ، ایک بندہ بھی باہر نہیں ۔




