وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے ملکی عسکری و سیاسی قیادت سمیت پورے ملک کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکہ جنگ بندی معاہدہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے اور موجودہ دور کے تمام تر معاشی چیلنجز کے باوجود عالمی سطح پر پاکستان کو ملنے والی یہ کامیابی اور مقام پوری قوم کے لیے انتہائی اہم اور قابلِ فخر ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں معیشت کے لحاظ سے ہم اتنے مضبوط نہیں، ہندوستان کی معیشت اور ٹیکنالوجی ہم سے آگے ہونے کے باوجود اللہ نے جو مقام ملک پاکستان کو دیا، یہ ہمارے لیے بہت بڑی بات ہے۔ انہوں نے اس خطے کے پائیدار اور مستقل امن کے لیے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور تمام سیاسی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مستحکم پاکستان ہی ہماری ترقی کا ضامن ہو سکتا ہے اور آزاد کشمیر سمیت پورے خطے کی بقا کا دارومدار پاکستان کے دفاعی و معاشی استحکام سے جڑا ہے۔
اسمبلی اجلاس، پینل آف چیئرمین کا اعلان اور شہداء کے لیے دعا:
اس دوران سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور میاں عبدالوحید ایڈووکیٹ کی تحریک پر مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثے میں پاک فوج کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ مزید برآں، وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے مردان میں تربیتی طیارے کے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فلائیٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور لیفٹیننٹ طہ عباسی کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے تعزیت کی، جبکہ سپیکر اسمبلی نے اجلاس کے دوران ممبران اسمبلی سردار محمد یعقوب، محترمہ تقدیس گیلانی اور خواجہ فاروق احمد پر مشتمل پینل آف چیئرمین کا بھی اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی پری بجٹ اجلاس، عوام دوست بجٹ پیش کرنے کا عزم
عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) اور حالیہ امن و امان کی صورتحال:
قانون ساز اسمبلی میں جاری بحث کے دوران وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے آزاد کشمیر کی حالیہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے جانی نقصان کی بنیادی ذمہ داری کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد ہوتی ہے، جس نے معاملات کو اس نہج تک پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں طرف جانی نقصان اٹھانے والے ہمارے اپنے لوگ تھے؛ حکومت نے بارہا اپیلیں کیں اور حالات کو روکنے کی کوشش کی لیکن دوسرے فریق نے اس کے برعکس راستہ چنا۔ انہوں نے انتظامیہ کے ردعمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی قانون ہاتھ میں لیتا ہے تو قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے انسانی جان کی قیمت سب سے بڑھ کر ہے اور ہم سب کو مل کر اس آگ کو بجھانا اور آزاد کشمیر کی شناخت کا تحفظ کرنا ہوگا۔
حکومتی کارکردگی اور بجلی و آٹے کے ریلیف پیکج کی یقین دہانی:
اپنی سات ماہ پرانی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ انہوں نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تمام نکات کو نافذ کیا جو ان کے دائرہ اختیار میں تھے، بشمول میڈیا ورکرز کے مسائل کا حل، پراپرٹی ٹیکس میں کمی، بینک آف اے جے کے کو شیڈولڈ بینک کا درجہ دلانے کے لیے 10 ارب روپے کی فراہمی، تعلیمی بورڈ کی تقسیم اور 45 متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی۔ انہوں نے ان افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا کہ تحریک کے ختم ہونے سے بجلی اور آٹے پر ملنے والا ریلیف پیکج واپس لے لیا جائے گا، اور یقین دہانی کروائی کہ گزشتہ مذاکرات کے نتیجے میں ملنے والی یہ سبسڈیز کسی بھی قیمت پر واپس نہیں لی جائیں گی۔




