بھارت کا دفاعی بجٹ90 بلین ڈالر سے زائد،مشکلات کے باوجودافواج پاکستان دفاع وطن کیلئے ہمہ وقت تیار،سکیورٹی ذرائع

سکیورٹی ذرائع نے صحافیوں کو بجٹ 2026-27کے حوالے سے بریفنگ میں کہا کہ دفاعی بجٹ بڑھا کر 3 ہزار ارب روپے کر دیا گیا لیکن مہنگائی کی شرح اس کی حقیقی مالیت کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔

اس مختص کردہ بجٹ کا 80 فیصد سے زائد حصہ لازمی اخراجات کی طرف جاتا ہے، جس میں راشن،منٹیننس اور تنخواہیں شامل ہیں،یہ لازمی اخراجات واپس ملکی معیشت میں شامل ہو کر اِسی کو استحکام فراہم کرتے ہیں۔

مزید یہ پڑھیں:کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ،مظاہرین میں چُھپے کئی کردار اور انکے مقاصد سامنے آچکے ،سکیورٹی ذرائع

تنخواہ کے اخراجات کے بعدسازو سامان کی خریداری ، ترقیاتی منصوبوں اور سپاہ کی استعداد بڑھانے کیلئے ایک محدود حصہ ہی باقی بچتا ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ90بلین ڈالر سے زائد ہے جو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج بیک وقت روائتی ، تکنیکی اور دہشت گردی کی جنگ لڑ رہی ہے ۔مستقبل کی جنگ تکنیکی استعداد میں بہتری کی متقاضی ہے جبکہ انسداد دہشتگردی کی جنگ میں افرادی قوت پر انحصار بھی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ کثیر الجہتی آپریشنل صلاحیت کے پیش نظر دفاعی بجٹ میں کیا جانیوالا اضافہ مستقبل کی سکیورٹی اور عسکری ضروریات کی وجہ سے ہے۔ ضرورت زیادہ بھی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں ، آپکی افواج دفاع وطن کیلئے فخر کے ساتھ ہمہ وقت تیار ہے۔

علیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی میڈیا کے ساتھ اہم نشست (بلوچستان)

فتنہ الہندستان (بی ایل اے) خالصتاً ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کی سرپرستی بھارت اور اس کے علاوہ کچھ یورپی عناصر کر رہے ہیں۔

پاکستان دشمن عناصر بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنےکیلئے سرگرمِ عمل ہیں،ریاست مخالف بیانیے کی تشکیل اور ترویج بھارت اور پاکستان دشمن عناصر کی طرف سے کی جا رہی ہے۔

مزید یہ پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف سے شاہ غلام قادر اور طارق فاروق کی ملاقات، اہم فیصلے

نام نہاد بیانیہ کی جنگ سوشل میڈیا تک محدود ہے اور یہ زمینی حقائق کے برعکس ہے ۔32 ہزار کلو میٹر پر محیط سڑکیں اور ہائی ویز پر روزانہ 18 ہزار سے زائد گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔

یہ دہشتگرد بلوچستان کی وسعت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکا دکا گاڑیوں کو نشانہ بنا کر سوشل میڈیا اور کچھ بیرونی میڈیا کے ذریعے بلوچستان کے حالات کو منفی انداز میں پیش کرتے ہیں ۔

دہشتگردوں کے سہولت کار اور بیرون ملک بیٹھے ہنڈلرز ایک منظم اور مربوط حکمت عملی کے تحت ان ویڈیوز کو استعمال کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کا حصہ بنتے ہیں ۔

فتنہ الہندوستان اور اس کے سرپرستوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے خواتین کو استعمال کرنے کی مذموم حکمت عملی اپنائی ہے ۔

یہ مکروہ حکمت عملی اسلام اور بلوچ روایات سے متصادم ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کے طول و ارض میں فتنہ الہندوستان کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے ۔

ضلعی سطح پر فنڈز کی شفاف تقسیم، اور منصوبوں کے درست انتخاب، بروقت عمل درآمد کے ذریعے حکومتِ بلوچستان بہترین نتائج پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

ریکوڈک اور کان کنی کے دیگر منصوبے بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اہم سنگ میل ہیں ۔ان سے حاصل ہونے والے فوائد اور بلوچستان کو ملنے والی رائلٹی صوبے کی ترقی میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔

کسی بھی علاقے سے نکلنے والی معدنیات کی کھپت صرف اُس علاقے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کو ایکسپورٹ اور پروسیسنگ کے ذریعے ترقی کا ذریعہ بنایا جاتا ہے اور فوائد عوام کو حاصل ہوتے ہیںبلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے ۔