کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ،مظاہرین میں چُھپے کئی کردار اور انکے مقاصد سامنے آچکے ،سکیورٹی ذرائع

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سکیورٹی ذرائع نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے صحافیوں کی بریفنگ میں کہا کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل حصہ ہے۔1948میں لڑی جانے والی جنگ پاکستانی فوج، کشمیریوں اور قبائل نے لڑی۔

کشمیر پر اب تک 5 جنگیں ہوچکی ہیں۔کشمیر میں ایک ہی نعرہ ہےکشمیر بنے گا پاکستان مقبوضہ کشمیر سے نعرہ آتا ہے۔ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیا مقبوضہ کشمیر میں نام نہادبھارتی ترقی اور سبسڈی مقبوضہ کشمیر کے غیور مسلمانوں کے جذبات کو خرید سکتی ہے؟کیا آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور قانونی رخنے اڑانے کی کوشش وہاں کے مسلمانوں کے حق خود ارادیت کو ختم کرسکتی ہے؟

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب بڑی فوجی چھاؤنی ہے، وادی کے لوگ اضطراب کا شکار ہیں لیکن وہ اب بھی پوری طرح تیار اور یکسو ہیں کہ کشمیر کا حل بھارت کے پاس نہیں ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ بھارت آزاد کشمیر میں آگ لگانے کی کوشش کررہا ہے۔نام نہاد حقوق کی تحریک کے پیچھے جو مذموم مقاصد اور اسکا اصل چہرہ اب عیاں ہوچکا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قیادت کی اولین ترجیح بات چیت اور مذاکرات ہوتے ہیں۔پاکستان کی قیادت نے دو سال سے کشمیر میں مذاکرات کئے، جو سہولیات مانگی دے دیں، جو کچھ سستا مانگا دے دیا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مظاہرین میں چُھپے کئی کردار اور انکے اصل مقاصد کُھل کر سامنے آچکے ہیں۔اب جب انکا اصل چہرہ عیاں ہوچکا ہے تو ان سے نمٹا بھی اُسی طریقے سے جائے گا۔

پانی روکنے کا معاملہ

بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی کسی بھی قسم کی کوشش کی تو ہمیں پتہ ہے کہ کیا کرنا ہے۔پاکستان فوج ، عوامی اُمنگ اور حکومت کی ہدایات پر ہر وہ عمل کرنے سے گریز نہیں کرے گی جس سے پاکستان پر آبی جارحیت مسلط کرنے سے روکا جاسکے۔

بھارتی حکومت اپنی عوام میں خود کو متعلق رکھنے کیلئے اور بھگوا میں رنگی بھارتی فوج اپنے 93 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی صفائی پیش کرنے کیلئے صبح شام پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں لگے رہتے ہیں اور پانی روکنے جیسی گیدڑ بھپکی دیتے ہیں۔پاکستان اس حوالے سے جو کرنا جانتاہے اور کرنا چاہتا ہے اس پر مکمل یکسوئی اور ہمہ وقت تیار ہے۔

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے موقف

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت جمہوری ہے اور جو بھی حکومت ہو وہ کسی بھی مسئلہ کو سب سے پہلے مذاکرات اور بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا تھاکہ عوامی ایکشن کمیٹی شروع میں عوامی مسائل کو لے کر نکلی، ریاست نے اسوقت بھی ان میں چھپے عناصر کو بھانپ لیا تھا لیکن اس نے پرامن کوشش کی اور پہلے مرحلے میں چودہ مطالبات مان لئے۔ یہ اگلے مرحلے میں 38 مطالبات لے کر آئے، ریاست نے ان میں سے بھی 37 مان لئے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف سے شاہ غلام قادر اور طارق فاروق کی ملاقات، اہم فیصلے

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی بارہ نشستوں کا معاملہ بھی جمہوری طریقے سے نبٹایا گیا۔ حکومت آزاد کشمیر نے پہلے آل پارٹی کانفرنس بلائی لیکن یہ لوگ نہیں آئے۔ تمام پارٹیز نے بارہ سیٹوں کے حق میں فیصلہ دیا جس کی تائید بعد میں اسمبلی نے بھی یکطرفہ فیصلے میں کی۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بعد حکومت آزاد کشمیر نے عدالتی موقف لیا۔ سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے بھی فیصلہ دیا کہ بارہ سیٹیں آئین کا حصہ ہیں اور صرف پارلیمان ہی اس کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ کوئی بھی جھتہ یا مسلح گروہ زور کی بنیاد پر اپنا فیصلہ نہیں منوا سکتا۔

کالعدم ایکشن کمیٹی والوں کو پھر بھی کہا گیا کہ دو ماہ بعد الیکشنز ہیں آپ اپنا موقف لے کر عوام میں جائیں، اگر عوام نے آپ کے موقف کی تائید کی تو آپ اسمبلی میں آ کر اپنا شوق پورا کر لینا لیکن انہوں نے الیکشنز کی بجائے انتشار کو چنا۔

راولاکوٹ میں انتشار پھیلانے کی پلاننگ اب ساروں کے سامنے ہے۔ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے ممبران کی فون پر بات چیت اسی لیے پبلک کی گئی تاکہ سب کو پتہ چلے کہ ان کے پلان کیا ہیں۔

راولاکوٹ سی ایم ایچ میں راولاکوٹ ہی کے رہائشی پولیس اہلکار کو اس کے داماد پولیس کانسٹیبل کے سامنے ننگا کر کے مارا گیا پھر اس کا پیٹ چیر کر آنتیں باہر نکالی گئیں۔ یہ سب کچھ عمر نذیر، امان ادریس اور خواجہ مہران کی موجودگی اور سرپرستی میں ہوا۔

اسلام آباد پولیس کااے ایس آئی اپنی والدہ کی وفات پر بائکیا کروا کر جا رہا تھا کہ ایکشن کمیٹی کے غنڈوں نے اسے راستے میں روک کر شدید زخمی کیا۔ مظاہروں میں کھلے عام فائرنگ کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ یہ جماعت کسی صورت نہ عوام کی ہے اور نہ پرامن۔

کالعدم کمیٹی کی لوٹ مار اور پر تشدد کاروائیوں کی وجہ سے نہ ٹرانسپورٹ چل رہی ہے اور بہت سے دکاندار چاہ کر بھی دکانیں نہیں کھول پا رہے۔

بلوچستان بارے موقف

ریاست کو بلوچستان میں جاری دہشت گردی کی کاروائیوں اور انکے پیچھے موجود عناصر، سیاسی، جرائم پیشہ دہشتگردانہ محرکات کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ۔بی ایل اے ایک مستند دہشت گرد تنظیم ہے جو بھارت کی پراکسی ہے، اسے تمام تر عسکری تربیت، لاجسٹک سہولیات اور پناہ دی جاتی ہے۔

بی وائی سی دراصل بی ایل اے کا سماجی و سیاسی چہرہ ہے جس میں خواتین کو آگے کرکے ویمن کارڈ کھیلا گیا، اور بی وائی سی کو یورپی ممالک سے پروجیکٹ کیا گیا۔بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چلانے والوں کے سرغنہ یورپ میں ہیں اور وہ انتہائی مراعات یافتہ لوگ ہیں۔

سرداری نظام کی پیچیدگیوں سے لوگوں کو نجات دلاکر، بہتر گورننس سے اور وہاں کی معیشت میں موجود امکانات پر کام کرکے بلوچستان میں بہتری لائی جاسکتی۔پولیس کی استعداد کار کو بڑھانے اور لیویز کو پولیس میں مکمل ضم کرنے کے حوالے سے عملی اقدامات کئے جارہے ہیں.

بلوچستان میں موجود قدرتی وسائل اور سمندری ترقی سے سب زیادہ فائدہ مقامی لوگوں کو ہوتا ہے۔
کسی بھی علاقے اور خطے سے نکلنے والی ساری معدنیات وہیں پروسیس اور استعمال نہیں ہوتیں اس کیلئے ایک مربوط نظام بنایا جاتا ہے، معدنیات کو قابل استعمال بنانے کیلئے جن وسائل اور تکنیک کی ضرورت ہوتی ہے انکا حصول ایک پیچیدہ عمل ہے۔