امریکا

مشرقِ وسطیٰ چھوڑ دیں یا انخلاء کیلئے تیار رہیں ،امریکا کی اپنے شہریوں کو ہدایت

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں خطے کے مختلف ممالک میں قائم امریکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کیلئے نئے سکیورٹی الرٹس جاری کر دئیے ہیں۔

خبردار کیا گیا ہے کہ خطے کی صورتحال کسی بھی وقت اچانک تبدیل ہو سکتی ہے، جس سے فضائی سفر اور آمدورفت شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی لیے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اگر ممکن ہو تو خطے سے روانگی پر غور کریں یا کسی بھی ہنگامی انخلاء کیلئے پہلے سے تیار رہیں۔

اردن، اسرائیل، عراق اور دیگر ممالک میں موجود امریکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔

سفارتخانوں کے مطابق کشیدگی میں اضافے کی صورت میں پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور سفری نظام میں خلل پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں کو 8.6 ارب ڈالر کا فوجی ساز و سامان فروخت کریگا

سکیورٹی الرٹس میں امریکی شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پروازوں کی صورتحال سے مسلسل باخبر رہیں، ایئرلائنز کی جانب سے جاری ہونیوالی تازہ معلومات پر نظر رکھیں اور مقامی حکام کی تمام حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد اردن میں موجود امریکی شہریوں کو خصوصی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ امریکی فوجی تنصیبات اور اڈوں کے اطراف جانے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔

دوسری جانب اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے رہائشی علاقوں کے قریب واقع بم شیلٹرز سے مکمل آگاہی رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر محفوظ مقام تک پہنچا جا سکے۔

یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا طرزِ عمل غیر متوقع ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بیرونِ ملک بینکوں میں پڑی پاکستانیوں کی دولت ملک میں واپس لانے کا ماسٹر پلان تیار

بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایران نے بغیر پیشگی اطلاع کے خطے میں حملے کیے اور اپنی کارروائیوں کا دائرہ ان علاقوں تک وسیع کیا ہے جنہیں ماضی میں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا جن میں مصر بھی شامل ہے۔