محرم الحرام کا آغاز، تشیع کمیونٹی آزادکشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی سے احتجاج موخر کرنے کی اپیل

میرپور،بھمبر(کشمیر ڈیجیٹل)اہلِ تشیع کمیونٹی میرپور ڈویژن کے ضلعی صدر اور تمام تنظیمی کارکنان نے عوامی ایکشن کمیٹی سےاحتجاج موخر کرنے کی اپیل کردی ۔

اہل تشیع کمیونٹی نے اپنی اپیل میں کہا کہ چونکہ محرم الحرام کی بابرکت ساعتیں شروع ہو چکی ہیں اور محرم کے مقدس مہینے میں دفعہ 144نافذ ہے، لہٰذا ماہ مقدس کو دیکھتے ہوئے تمام تر سرگرمیوں ترک کردی جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی اور دینی جذبات کا خیال رکھتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی سے پرزور اپیل ہے کہ وہ اپنا احتجاج محرم الحرام کے مہینے میں مؤخر کر دیں یا ختم کر دیں۔

انجمن حسینہ بھمبر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ محرم الحرام کا مقدس مہینہ کل سے شروع ہو چکا ہے، جو تمام مسلمانوں بالخصوص اہل بیت سے محبت رکھنے والوں کیلئے انتہائی عقیدت و احترام اور روحانی اہمیت کا حامل ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ،مظاہرین میں چُھپے کئی کردار اور انکے مقاصد سامنے آچکے ،سکیورٹی ذرائع

یہ ماہ مبارک صبر قربانی ایثار اور حق و صداقت کے پیغام کو یاد کرنے کا مہینہ ہے ۔ آزاد جموں و کشمیر سمیت دنیا بھر کے مسلمان ان ایام میں اپنی مذہبی رسومات ، مجالس عزاء، جلوسوں اور دیگر عبادات کا اہتمام کرتے ہیں ۔

موجودہ حالات میں ہم محسوس کرتے ہیں کہ جو ائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں سیکشن 144 نافذ ہےجس سے عوامی زندگی کیساتھ مذہبی اجتماعات اور رسومات کی ادائیگی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔

انجمن حسینیہ بھمبر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ محرم الحرام کے ان مقدس ایام میں ہماری اولین ترجیح یہ ہونی چائیے کہ تمام مسلمان بلا رکاوٹ اور پر امن ماحول میں اپنی مذہبی ذمہ داریاں ادا کر سکیں ۔

ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کسی سیاسی یا احتجاجی تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہم اپنے مومنین ، نو جوانوں اور وابستگان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ امن ، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کو مقدم رکھتے ہوئے ایسے تمام اقدامات سے اجتناب کریں جو کشید گی یا تصادم کا باعث بن سکتے ہوں۔

انہوں نے جو ائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت اور کارکنان سے بھی مخلصانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے تقدس ، عوامی جذبات اور مذہبی ضروریات کو مد نظر رکھیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر اسمبلی اجلاس،وزیرقانون میاں عبدالوحید اور سردار عبدالقیوم نیازی کے درمیان تلخ کلامی

ان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے احتجاج کو ختم کرنے یا موخر کرنے پر غور کریں تا کہ معاشرے میں پائی جانے والی کشیدگی کا خاتمہ ہو اور عوام خصوصاً عز اور ان امام حسین اپنے مذہبی فرائض آزادی اور اطمینان کے ساتھ ادا کر سکیں۔

ان کا کہنا تاھ کہ ہمیں امید ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے احتجاجی سرگرمیوں میں نرمی لاتی ہے تو حکومت بھی معاملے کو افہام و تفہیم اور خوش اسلوبی سے حل کرنے کیلئے اپنے موجودہ سخت موقف میں لچک پیدا کرے گی ۔

ہمارا یقین ہے کہ مذاکرات ، برداشت اور باہمی احترم ہی تمام مسائل کا بہترین حل ہیں اور مذہبی ہم آہنگی کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

ہم حکومت ، انتظامیہ، مذہبی و سیاسی قیادت اور تمام مکاتب فکر سے اپیل کرتے ہیں کہ محرم الحرام کے تقدس ، امن وامان اور مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے مشتر کہ کردار ادا کریں تا کہ یہ مقدس ایام اپنی اصل روح کے مطابق عقیدت و احترام کے ساتھ منائے جاسکے۔