آزادکشمیر اسمبلی اجلاس،وزیرقانون میاں عبدالوحید اور سردار عبدالقیوم نیازی کے درمیان تلخ کلامی

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزادکشمیر اسمبلی اجلاس کے دوران حکومتی وزیراور تحریک انصاف کے صدر سردار عبدالقیوم نیازی کے درمیان تلخ جملوں کا استعمال دیکھنے میں آیا ۔

ذرائع کے مطابق اسمبلی اجلاس میں گزشتہ روز مظفرآباد سے گرفتار خواتین کے حوالے سے وزیرقانون وانصاف میاں عبدالوحید اور ایم ایل اے سٹی خواجہ فاروق، قیوم نیازی آپس میں الجھ پڑے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیرکی کشیدہ صورتحال ، بار کونسل کی مذاکرات کی کوششیں تیز، 16رکنی کمیٹی راولاکوٹ روانہ

ذرائع کے مطابق خواجہ فاروق احمد نے اسمبلی اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے شہر کی دو بیٹیاں آنسہ اور مریم کل سے 15 فائیو پولیس آفس میں پابند سلاسل ہیں۔

ان بچیوں کیخلاف کوئی ایف آر نہیں، آج انکے خاوند ارشد، اور امجد انکا پتہ کرنے گئے تو انہیں بھی پولیس نے بٹھا لیا۔ وزیر قانون اس بات کا جواب دیں کہ بغیر ایف آئی آرانہیں کیوں گرفتار کیا گیا

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں امن و امان تسلی بخش: کالعدم تنظیم کےشرپسند گرفتار، 81 مقدمات درج

اس معاملے پر وزیرقانون میاں عبدالوحید کا کہنا تھاکہ یہ سنی سنائی باتیں ہیں، ہم پتہ کر کے بتاتے ہیں۔ اس بات پر صدر پی ٹی آئی عبدالقیوم نیازی، خواجہ فاروق، رفیق نیئر کی جانب سے یہ کہا گیا کہ آپ پابند ہیں، بچیوں کا پتہ کریں، وقت بتائیں اور انہیں رہا کریں۔

اس دوران حکومتی ارکان اور پاکستان تحریک انصاف کے ممبران کے درمیان تلخی ہوئی جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ممبران کی جانب سے اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا گیا۔

آزادکشمیر اسمبلی اجلاس،وزیرحکومت میاں عبدالوحید اور سردار عبدالقیوم نیازی کے درمیان تلخ کلامی،الزامات کی بوجھاڑ