امریکا ایران امن معاہدہ تعطل کا شکار؟ صدر ٹرمپ کا دستخط کا دعویٰ ایرانی فوج نے مسترد کر دیا

امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے سے متعلق امن معاہدے پر دستخط کے معاملے پر دونوں ممالک کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث صورتحال تاحال انتہائی مبہم اور غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اتوار کے روز ہی اس تاریخی معاہدے پر دستخط ہونے کا مژدہ سنایا ہے، تو دوسری جانب ایرانی عسکری حکام نے امریکی دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

اس اہم ترین امن ڈیل پر دستخط کے وقت اور تاریخ کو لے کر دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان بیانات کی جنگ تیز ہو گئی ہے، جس نے عالمی برادری کو بھی شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی فوج نے امریکی صدر ٹرمپ کا آج معاہدے پر دستخط کا دعویٰ مسترد کر دیا

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور ویب ڈیسک کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط آج (اتوار) کے روز ہی کیے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کا مئوقف تھا کہ اس تاریخی معاہدے پر دستخط ہوتے ہی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی بحری گزرگاہ “آبنائے ہرمز” کو تمام ممالک کے لیے فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔

تاہم، ایرانی فوج نے امریکی صدر کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار پہلے ہی یہ صاف بتا چکے ہیں کہ اتوار کے روز کسی بھی قسم کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے جائیں گے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ دراصل اپنی سالگرہ کی وجہ سے اس تقریب کو آج 14 جون کو منعقد کرنے پر بضد ہیں، تاکہ وہ اس موقع کو علامتی اہمیت دے کر اپنی ذاتی تشہیر اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں، جبکہ زمینی حقائق کے مطابق معاملات ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر پائے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران کیساتھ معاہدے پر آج دستخط کر دئیےجائیں گے : صدر ڈونلڈ ٹرمپ