ملک میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا، اپوزیشن تسلیم کرے: عطاء اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا ہے اور اپوزیشن کو اب اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جس کے تحت 50 ہزار روپے سے کم ماہانہ آمدن پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ 50 ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک کی تنخواہ پر صرف ایک فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کا یہ ہاؤس امین ہے، تاہم ماضی میں اسی ایوان کے اندر ڈیسک سے کتابیں جلتی اور کاغذ پھینکے جاتے ہوئے بھی دیکھے گئے ہیں، اس لیے اپوزیشن کو اب منفی سیاست چھوڑ کر حکومت کے مثبت اقدامات کی تعریف کرنی چاہیے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے ملکی معیشت کی ماضی کی نازک صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب ملک کے ڈیفالٹ ہونے پر شرطیں لگ رہی تھیں اور کئی سرکاری افسران حالات سے مایوس ہو کر چھٹیاں لے کر چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء اور سلامتی کے لیے اپنی سیاست کی قربانی دی، اور اگر آئی ایم ایف کے ساتھ وہ اہم ترین میٹنگ نہ ہوتی تو آج ملک میں یہ معاشی خوشحالی اور استحکام نہ آتا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں پاکستان میں ایکسچینج ریٹ ایسے تبدیل ہو رہا تھا جیسے پنکھا چلتا ہے، اور ملکی کاروباری حضرات کی ایل سیز (LCs) تک نہیں کھل پا رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری

ماضی کی معاشی مشکلات اور اپوزیشن کے کردار پر تنقید:

عطاء اللہ تارڑ نے ماضی کی حکومت اور اپوزیشن کے مابین معاشی موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ چکی تھی، تو اسی ایوان میں بطور اپوزیشن لیڈر دعوت دی گئی تھی کہ آئیں مل کر “میثاقِ معیشت” کرتے ہیں، لیکن اس پیشکش کو ٹھکرا دیا گیا۔ انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اپوزیشن کے وزراء خزانہ نے آئی ایم ایف (IMF) کو باقاعدہ خطوط لکھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ملک دیوالیہ ہو جائے، اور آئی ایم ایف کو لکھے گئے وہ تمام خطوط آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جب یہاں سے خط لکھ کر پاکستان کو بیل آؤٹ پیکیج نہ دینے کی سفارشات کی جا رہی تھیں، تو اس وقت ملکی اداروں نے معیشت کو سنبھالنے کے لیے بہت کاوشیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ٹیم کا یہ انتہائی اہم اور کلیدی کردار ہے کہ آج ملک میں معاشی استحکام بحال ہوا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر شرح سود 22 فیصد پر ہی برقرار رہتا اور 11 فیصد پر نہ آتا، تو ملک کے حالات آج کیا ہوتے، اور اسی معاشی استحکام کی بدولت مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آ سکتی تھی۔

ملکی معیشت کی درست سمت اور عالمی اعتراف:

وفاقی وزیر اطلاعات نے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے پرامید انداز میں کہا کہ ہم انشاللہ ایک ایسی مضبوط معیشت بنیں گے کہ ساری دنیا دیکھے گی، اور آج پوری دنیا اس بات کی معترف ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت بحال ہو چکی ہے اور ملک کی معیشت بالکل درست سمت میں گامزن ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ اس وقت ہر مکتبہ فکر اور سنجیدہ حلقے بجٹ پر مثبت بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بجٹ پر تنقید کرنا اور احتجاج ریکارڈ کرانا یقیناً اپوزیشن کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن اس احتجاج کے ساتھ ساتھ بجٹ میں شامل کیے گئے عوامی اور مثبت اقدامات کی تعریف بھی ضرور ہونی چاہیے۔