کونسلر ماجد محمود لیبر پارٹی سے مستعفی، سنگین الزامات بھی عائد کر دیئے

برمنگھم:حالیہ الیکشن میں منتخب ہونے والے لیبر پارٹی کے کونسلر ماجد محمود نے پارٹی کی رکنیت سے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

کونسلر ماجد محمود نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اپنے استعفے کی وجوہات اور لیبر پارٹی کی موجودہ سمت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: شیخ عمران25کروڑ کا فراڈ کرکے برطانیہ بھاگ گیا، بھانجے محمد اشرف کے ہوشرباء انکشاف

اپنے بیان میں کونسلر ماجد محمود نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ لیبر پارٹی کے ساتھ گزارا کیونکہ وہ اسے محنت کش طبقے، مضبوط مقامی جمہوریت، مساوات، انصاف، منصفانہ نظام اور اندرونی جمہوری اقدار کی نمائندہ جماعت سمجھتے تھے تاہم اب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ پارٹی ان اصولوں کی عکاسی نہیں کرتی۔

انہوں نے برمنگھم لیبر گروپ کے اندرونی معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اراکین کے سوالات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے اور قیادت و نمائندوں کے درمیان موثر رابطے اور جواب دہی کا فقدان ہے۔

کونسلر ماجد محمود نے مقامی قیادت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق موجودہ قیادت میں برمنگھم جیسے بڑے اور پیچیدہ شہر کو موثر انداز میں چلانے کے لیے مطلوبہ تجربہ اور سیاسی صلاحیت کا فقدان ہے۔

انہوں نے ریفارم یو کے کے کونسلرز کو اہم کمیٹی عہدوں پر لانے کے معاملے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ بہت سے رہائشی اس جماعت کو مسلمانوں اور اقلیتی برادریوں کے خلاف سخت روئیے سے جوڑتے ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے لیبر پارٹی کی امیگریشن پالیسی اور غزہ، فلسطین کی صورتحال پر پارٹی کے موقف پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے انسانی بحران پر واضح موقف نہ اپنانے سے خاص طور پر مسلم کمیونٹی میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔

کونسلر ماجد محمود نے کہا کہ اب وہ لیبر پارٹی کو ایک وسیع اور جمہوری سیاسی تحریک کے طور پر نہیں پہچانتے اور ان کے خیالات پارٹی کی موجودہ سمت سے مطابقت نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کیخلاف لیبر پارٹی میں بغاوت،شبانہ محمود نے بھی مشورہ دیدیا

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 4لیبر پارٹی نے مجھے چھوڑا ہے، میں نے لیبر پارٹی کو نہیں چھوڑا۔

کونسلر ماجد محمود نے واضح کیا کہ وہ اپنی وارڈ ساتھی کونسلر ڈیان ڈونلڈسن کے ساتھ مل کر برومفورڈ اور ہاج ہل کے عوام کی نمائندگی جاری رکھیں گے اور کمیونٹی کے مسائل کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔