برطانیہ پارلیمنٹ کے رکن اور آل پارٹی پارلیمنٹری گروپ برائے کشمیر کے چیئرمین عمران حسین سمیت ایک درجن سے زائد پارلیمنٹرین کو آزاد جموں کشمیر کی موجودہ تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا ہے ۔
ان برطانوی پارلیمنٹرینز میںعمران حسین ایم پی چیئرمین اے پی پی جی کشمیر ، اینڈریو گوین ایم پی، پال براسٹو ایم پی، لارڈ واجد خان ہاؤس آف لارڈز ،لارڈ شفق محمود ہاؤس آف لارڈز ،لارڈ قربان حسین ہاؤس آف لارڈز ،ناز شاہ ایم پی،یاسمین قریشی ایم پی،خالد محمود ایم پی،افضل خان ایم پی،محمد یاسین ایم پی اور ڈیبی ابراہمس ایم پی کے نام شامل ہیں ۔
وائس چیئرمین فرینڈز آف کشمیر عبدالحمید لون نے اپنے مکتوب میں لکھا کہ آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے حقائق پر مبنی تشویش اور متوازن جائزے کی ضرورت ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت کا ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے ساتھ مذاکرات کا امکان مسترد، معطل ایف آئی آرز بحال کر دی گئیں
آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ ضروری ہے کہ تمام متعلقہ قومی اور بین الاقوامی حلقے حقائق، شواہد اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر معاملات کا جائزہ لیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ابتداء میں تاجروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی جانب سے عوامی مسائل، مہنگائی، بنیادی سہولیات اور فلاحی مطالبات کے حل کیلئے قائم کی گئی تھی اس پلیٹ فارم کو عوامی شکایات کے پُرامن اظہار کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
وائس چیئرمین فرینڈز آف کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ تاہم، ناقدین اور مبصرین کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ اس کی قیادت اور ترجیحات میں تبدیلی رونما ہوئی۔
ان کے مطابق بعض قوم پرست اور علیحدگی پسند عناصر کے اثر و رسوخ میں اضافے سے تنظیم کا رخ اپنے ابتدائی فلاحی مقاصد سے ہٹ کر وسیع تر سیاسی اہداف کی جانب مڑ گیا۔ بعض رہنماؤں کے بیانات اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کو ریاست مخالف اور علیحدگی پسند رجحانات سے جوڑتے ہوئے ان کی سمت پر سوالات اٹھائے گئے۔
حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر نے ابتدائی مرحلے میں مذاکرات کے ذریعے متعدد عوامی مطالبات تسلیم کیے تاکہ عوامی بے چینی کو کم کیا جا سکے،
لیکن ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس کے باوجود مزید مطالبات سامنے آتے رہے، جن میں مہاجرین کشمیر کے لیے مختص بارہ اسمبلی نشستوں کے خاتمے کی تجویز بھی شامل تھی، جسے بہت سے حلقوں نے بے گھر کشمیریوں کے تاریخی اور آئینی حقوق کے منافی قرار دیا۔
صورتحال میں کشیدگی بڑھنے کے بعد احتجاجی مظاہروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق ان واقعات میں تین سکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ چالیس سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اس کے نتیجے میں معمولاتِ زندگی، کاروباری سرگرمیاں اور عوامی تحفظ متاثر ہوا۔
بعض ریاستی اداروں نے تحریک سے وابستہ عناصر کے بیرونی روابط اور ممکنہ مالی معاونت سے متعلق خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔
اسی طرح یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ برطانیہ اور یورپ میں بعض افراد نے سیاسی دباؤ ڈالنے اور منتخب نمائندوں کو انتخابی حمایت واپس لینے کی دھمکیوں کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے سیاحت تباہ، ہزاروں سیاحوں نے دورے منسوخ کر دیے
تاہم یہ تمام دعوے شفاف تحقیقات، قانونی جانچ اور عدالتی عمل کے متقاضی ہیں۔ حکومت آزاد جموں و کشمیر نے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر متعلقہ قانونی فریم ورک کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا۔
حکومتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ تنظیم اپنی اصل عوامی حیثیت سے ہٹ کر امن عامہ اور ریاستی استحکام کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں سے منسلک ہو گئی تھی، جبکہ اس کے حامی اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے اسے جائز عوامی اختلافِ رائے کی نمائندہ تحریک قرار دیتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو امن، استحکام، انصاف، قانون کی حکمرانی اور پُرامن جمہوری عمل کا حق حاصل ہے۔ تشدد، خوف و ہراس اور انتہاپسندی کی ہر شکل کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، جبکہ تمام فریقین کے دعوؤں کا جائزہ غیر جانبداری، شواہد، آئینی تقاضوں اور مناسب قانونی عمل کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔
ہم برطانیہ اور دیگر ممالک کے ارکانِ پارلیمان، سفارتی مشنز، قونصل خانوں اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں پیش کیے جانے والے تمام مؤقف اور نمائندگیوں کا متوازن، غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی جائزہ لیں تاکہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے مفادات، امن اور جمہوری استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
آزاد جموں و کشمیر کے عوام ایک ایسے مستقبل کے مستحق ہیں جو انصاف، امن، باہمی احترام، جمہوری احتساب اور قانون کی بالادستی پر استوار ہو۔




