آزاد کشمیر حکومت کا ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے ساتھ مذاکرات کا امکان مسترد، معطل ایف آئی آرز بحال کر دی گئیں

مظفرآباد: حکومتِ آزاد جموں کشمیر نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے مقدمات کے حوالے سے جاری سابقہ نوٹیفکیشنز واپس لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے درج تمام سابقہ ایف آئی آر بحال کر دی ہیں۔

محکمہ قانون و انصاف کا اعلامیہ اور کابینہ کا فیصلہ

تفصیلات کے مطابق محکمہ قانون، انصاف، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر آزاد جموں و کشمیر نے مختلف فوجداری عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات سے متعلق 4 سابقہ نوٹیفکیشنز واپس لینے کی منظوری دے دی ہے، جس کا فیصلہ 5 جون 2026 کو ہونے والے کابینہ کے 41 ویں اجلاس میں کیا گیا تھا۔

واپس لیے گئے نوٹیفکیشنز کی تفصیلات

حکومت کی جانب سے واپس لیے گئے نوٹیفکیشنز میں درج ذیل شامل ہیں:

  • نوٹیفکیشن نمبر LD/Litigation/763-83/2024 مورخہ 7 دسمبر 2024

  • نوٹیفکیشن نمبر LD/Litigation/25/227/2025 مورخہ 15 دسمبر 2025

  • نوٹیفکیشن نمبر LD/Litigation/25/227-A/2025 مورخہ 26 دسمبر 2025

  • وٹیفکیشن نمبر LD/Litigation/25/1-227-A/2025 مورخہ 31 دسمبر 2025

یہ بھی پڑھیں: شرپسندوں کیخلاف طاقت کا استعمال کیا جائے ،وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی ہدایت

مذاکرات کا امکان مسترد اور سخت پالیسی کا اختیار

اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت نے کالعدم تنظیم جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کر لی ہے اور واضح کیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہ کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی آئندہ کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابقہ معاہدوں کے نتیجے میں واپس لی گئی ایف آئی آرز کو معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف درج 177 مقدمات، جو چند ماہ قبل مذاکرات کے نتیجے میں واپس لیے گئے تھے، ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ فعال کیے جا رہے ہیں۔

پرتشدد واقعات کی ذمہ داری اور قانون کی عملداری

حکومت نے حالیہ جھڑپوں اور پرتشدد واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی قانونی ذمہ داری تنظیم کی قیادت پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ حکومتی ذرائع نے مزید کہا کہ اب کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور متعلقہ افراد کو ہتھیار ڈال کر قانون کے سامنے سرینڈر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس تازہ پیش رفت کو حکومتِ آزاد کشمیر کی جانب سے کالعدم تنظیم کے خلاف سخت ترین مؤقف قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں سیاسی و سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔