آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے سیاحت تباہ، ہزاروں سیاحوں نے دورے منسوخ کر دیے

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے پرتشدد احتجاج اور مختلف مقامات پر سڑکوں کی زبردستی بندش نے خطے کے سیاحتی شعبے اور مقامی کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

امن و امان کی موجودہ سنگین صورتحال کے باعث سیاحت کے عروج کے موسم میں ہزاروں سیاحوں نے وادی کے اپنے طے شدہ دورے یا تو منسوخ کر دیے ہیں جس کے باعث مقامی معیشت بحران کا شکار ہو گئی ہے۔

ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور غریب طبقے کا معاشی استحصال:

تفصیلات کے مطابق مقامی اسٹیک ہولڈرز اور ہوٹل انڈسٹری کے نمائندوں، ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور چھوٹے کاروباری مالکان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ میں خلل اور مشہور سیاحتی مقامات تک سڑکوں کی رسائی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال نے سیاحت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سیاحوں کی آمد میں اس اچانک اور بڑی کمی کے نتیجے میں ان تمام کاروباروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جو مکمل طور پر سیزنل سیاحت پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بندش سے ہوٹل، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ سروسز اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے دہاڑی دار افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ کاروباری برادری کے اراکین کا کہنا ہے کہ طویل رکاوٹیں سیاحتی مقام کے طور پر خطے کی ساکھ کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہیں اور سیاحت سے جڑی معاشی سرگرمیوں کو تباہ کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کے ممبر محسن خلیل نے گرفتاری دیدی، عوام سے احتجاج میں شرکت نہ کرنیکی اپیل

ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قلت:

دوسری جانب، کالعدم جے اے اے سی (JAAC) کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے باعث آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں سے سپلائی چین متاثر ہونے اور ایندھن (پیٹرول و ڈیزل) کی شدید قلت کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹرانسپورٹیشن میں مسلسل مشکلات کے باعث مختلف اضلاع میں ایندھن کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی سپلائی بھی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ خطے کی اس موجودہ سنگین صورتحال اور مستقبل میں سپلائی کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر شہری پریشان ہیں اور لوگ ہفتوں کا راشن جمع کرنے کے لیے دکانوں اور مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں جس سے ذخیرہ اندوزی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

پٹرول پمپس پر لوٹ مار، ٹرانسپورٹرز کا سامان لے جانے سے انکار:

سرکاری حکام نے اس حوالے سے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) سے وابستہ افراد پٹرول پمپس اور دکانوں پر لوٹ مار کے واقعات میں براہِ راست ملوث رہے ہیں۔ سکیورٹی کے ان شدید خطرات، جے اے اے سی کی جانب سے گاڑیوں کو آگ لگانے (آرسن) کے خوف اور سڑکوں پر لگی رکاوٹوں کے باعث ٹرانسپورٹرز نے سڑکوں پر مال بردار گاڑیاں لانے اور سامان کی ترسیل کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا پہیہ مکمل جام ہونے سے وادی میں پٹرولیم مصنوعات اور خوراک کا بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ضلع جہلم ویلی میں حالات معمول کے مطابق، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال بے اثر