پاکستان کے مایہ ناز اور تجربہ کار فاسٹ باؤلر حسن علی نے ٹی 20 کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا اور سنہرا باب رقم کرتے ہوئے تیز ترین 350 وکٹیں مکمل کرنے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انگلینڈ میں جاری ڈومیسٹک ٹی 20 ٹورنامنٹ ’وائٹیلیٹی بلاسٹ‘ میں لیسٹر شائر کے خلاف کھیلے گئے ایک سنسنی خیز میچ کے دوران انہوں نے تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف 4 اہم کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی بلکہ مخالف ٹیم کی بیٹنگ لائن کو پوری طرح تہس نہس کر دیا۔ اس میچ میں جیسے ہی انہوں نے اپنی چوتھی وکٹ حاصل کی، وہ ٹی 20 فارمیٹ میں یہ عظیم سنگِ میل عبور کرنے والے دنیا کے تیز ترین باؤلر بن گئے۔
حسن علی نے یہ تاریخی اعزاز صرف 243 میچز کھیل کر حاصل کیا اور اس طرح انہوں نے افغانستان کے عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر راشد خان کا ریکارڈ باآسانی پامال کر دیا، جنہوں نے یہ کارنامہ 251 میچز میں انجام دیا تھا۔ اب حسن علی 8 میچز کے واضح فرق کے ساتھ اس فہرست میں دنیا بھر کے کرکٹرز میں سب سے اوپر آ گئے ہیں، جس کے بعد سابق کرکٹرز اور دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں کی جانب سے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈائمنڈ جوبلی انٹر نیشنل فٹبال ٹورنامنٹ، پاکستان فائنل میں پہنچ گیا
حسن علی کا یہ نیا ریکارڈ ان کی برسوں کی محنت اور ٹی 20 فارمیٹ میں ان کی غیر معمولی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ وہ ہمیشہ سے پاکستان کے لیے بڑے میچوں کے کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں۔ انہیں عالمی سطح پر سب سے بڑی پہچان 2017 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے ملی تھی، جہاں انہوں نے اپنی شاندار سوئنگ اور یارکرز کی بدولت پاکستان کو پہلی بار یہ تاریخی ٹرافی جتوائی تھی اور وہ اس ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی اور سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر ٹھہرے تھے۔
لیسٹر شائر کے خلاف میچ میں بھی وکٹ لینے کے بعد ان کا روایتی انداز، جسے کرکٹ کی دنیا میں ’جنریٹر اسٹائل سیلیبریشن‘ کہا جاتا ہے، اپنے پورے عروج پر دیکھا گیا۔ وہ نہ صرف پاکستان سپر لیگ (PSL) بلکہ انگلش کاؤنٹی، لنکا پریمیئر لیگ اور دیگر عالمی ایونٹس میں بھی اپنی بہترین باؤلنگ کا لوہا منوا چکے ہیں۔ عام طور پر ٹی 20 کو بلے بازوں کا فارمیٹ سمجھا جاتا ہے، لیکن ایسے حالات میں ایک فاسٹ باؤلر کے لیے یہ کامیابی حیران کن ہے جس کی سب سے بڑی وجہ ان کا ‘ڈیتھ اوورز’ میں پرانی گیند سے بہترین ریورس سوئنگ کرنا اور دھیمی رفتار کی گیندوں سے بلے بازوں کو دھوکا دینا ہے، اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ان کا یہ نیا ریکارڈ ان کے بین الاقوامی کیریئر کے لیے ایک بہترین ٹانک ثابت ہوگا۔



