ترقی کے بیانیے کی کامیابی، تجزیہ نگاروں نے مسلم لیگ (ن) کوسب پر بھاری قرار دیدیا

سکردو(کشمیر ڈیجیٹل)گلگت بلتستان پاکستان کا ایک اہم آئینی اور جغرافیائی خطہ ہے جہاں انتخابات ہمیشہ قومی سیاسی رجحانات سے متاثر رہے ۔۔

تاریخی طور پر یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ وفاق میں برسرِ اقتدار جماعت کو گلگت بلتستان میں انتخابی فائدہ حاصل ہوا ہے

تجزیہ نگاروں کے مطابق 2015کے انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) نے 24 میں سے 14 نشستیں حاصل کرکے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق وفاقی میں جس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں بھی وہی حکمران پارٹی اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے ۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق 2026کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے تقریباً تمام حلقوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے ۔اپنی انتخابی مہم ترقی، انفراسٹرکچر اور وفاقی روابط کے بیانیے کیساتھ منظم کیا گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر سے مہاجرین کی نمائندگی کسی صورت ختم نہیں کی جاسکتی : احسن اقبال

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس وقت وفاقی سطح پر حکمران جماعت ہے ۔ گلگت بلتستان میں روایتی طور پر ووٹر اس جماعت کی طرف مائل ہوتے ہیں جس کے وفاق میں اثرورسوخ زیادہ ہو یا اقتدار کا حصہ ہو کیونکہ عوام ترقیاتی منصوبوں، ملازمتوں اور فنڈز کی فراہمی کیلئے وفاقی حکومت کی طرف رجوع کرتے ہیں

تجزیہ نگاروں کے مطابق پارٹی نے کئی ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دیئے جو ماضی میں اسمبلی یا حکومتی عہدوں پر رہ چکے ہیں جن میں سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن بھی شامل ہیں۔ پارٹی نے تمام اضلاع میں منظم امیدوار نامزد کئے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق مسلم لیگ (ن) اپنی سابقہ حکومت کے دوران سڑکوں، بجلی، سیاحت اور مواصلاتی منصوبوں کو انتخابی مہم کا حصہ بنا رہی ہے۔ پارٹی قیادت اس مؤقف کو اجاگر کر رہی ہے کہ اس کے دور میں خطے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار بہتر رہی۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں شخصیات اور برادریوں کا کردار سیاسی جماعتوں سے زیادہ مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ کئی حلقوں میں آزاد امیدوار یا مقامی اثر و رسوخ رکھنے والے رہنما بڑے سیاسی جماعتی امیدواروں کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن نتائج آنے لگے ، خالد خورشید کے حلقے سے ن لیگ پہلے، پی ٹی آئی دوسرے، پیپلزپارٹی تیسرے نمبر پر

معروف تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی حالات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) گلگت، دیامر، استور اور بعض بلتستانی حلقوں میں مؤثر پوزیشن رکھتی ہے۔

مسلم لیگ ن نے 22 سے زائد حلقوں میں امیدوار نامزد کئے اور دو حلقوں میں حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی پشت پناہی بھی کی ہے۔ایک حلقے میں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان ٹف مقابلے کا امکان ہے ۔

تجزیہ نگاروں کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا ترقی کا بیانیہ مؤثر ثابت ہوا تو مسلم لیگ (ن) نمایاں نشستوں کے ساتھ حکومت سازی کیلئے میدان میں اتر چکی تاہم مکمل اکثریت کا حصول مقامی سیاسی اتحادوں اور آزاد امیدواروں کی کارکردگی پر منحصر ہوگا۔