عوامی ایکشن کمیٹی مسلح گروپ کا سی ایم ایچ راولاکوٹ پرحملہ، شہیدسب انسپکٹر سمیت 4 اہلکار شہید ،20 اہلکار زخمی

راولاکوٹ(کشمیر ڈیجیٹل) کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح گروپ نے اچانک سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ کردیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ شاہزیب کے جنازے کی آڑ میں ایک منظم اور پیشگی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح گروپ کی فائرنگ سے تمام چار شہید اور 20 زخمی سکیورٹی اہلکاروں کو 7.62ممنوعہ بور گولیوں سے نشانہ بنایا گیا ،

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر نے براہِ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر پولیس کے سب انسپکٹر سمیت 3اور فیڈرل کانسٹیبلری کا 1جوان شہید ہو گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 20 سے زائد اہلکار گولیوں کے زخموں کے ساتھ زخمی ہوئے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے 72 گھنٹوں میں 27 دہشتگرد ہلاک کر دئیے

حملے کا طریقۂ کار اور اس میں استعمال ہونے والی حکمتِ عملی اس امر کو بلا شبہ ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک پیشگی منصوبہ بند دہشت گرد کارروائی تھی، جس کی منصوبہ بندی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت نے کی اور اسے ان کے مسلح غنڈہ عناصر نے عملی جامہ پہنایا۔

ریاست اس شرپسند اور دہشت گرد گروہ کے خلاف فیصلہ کن اور بھرپور کارروائی کرے گی۔ حملے کے تمام منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور حملہ آوروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ریاستی رٹ ہر قیمت پر قائم کی جائے گی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ریاست کو اب اس دہشت گرد گروہ کے خلاف مزید نرمی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور پوری طاقت سے اس برائی کو کچلنا چاہیے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن نتائج آنے لگے ، خالد خورشید کے حلقے سے ن لیگ پہلے، پی ٹی آئی دوسرے، پیپلزپارٹی تیسرے نمبر پر

آزاد جموں و کشمیر کے عام لوگ بھی جان چکے ہیں کہ یہ گروہ اپنے حقوق کیلئے جدوجہد نہیں کر رہا بلکہ غیر ملکی دشمنی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

جبکہ ان کے سرغنہ روپوش ہیں، بے خبر نوجوانوں کو سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے کیلئے آگے بڑھایا دیا گیا ہےعوامی ایکشن کمیٹی۔ ریاست ان سرغنہ کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ریاست مخالف مسلح حملوں پر بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ اوورسیز کشمیریوں نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے امن و استحکام برقرار رکھنے پر زور دیا۔