اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سینئر پارلیمنٹیرین چوہدری محمد یٰسین نے کہا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال کا پائیدار اور قابلِ قبول حل نکالنے کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو سنجیدگی، تدبر اور بردباری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ اس حساس معاملے کو طاقت کے استعمال یا محاذ آرائی کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں سے گریز کیا جانا چاہیے اور تمام فریقین کو مذاکرات، مشاورت اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے متفقہ حل تلاش کرنا چاہیے ۔
انہوں نے تجویز دی کہ مہاجرین کی نشستوں کے طریقہ کار پر ازسرِ نو غور کرتے ہوئے ایسا متفقہ نظام وضع کیا جائے جو تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو، جمہوری اقدار کے مطابق ہو اور مستقبل میں کسی بھی قسم کے تنازعات کا راستہ روک سکے۔
چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ مہاجرین جموں و کشمیر ریاست کا اہم اور قابلِ احترام حصہ ہیں، جن کی سیاسی نمائندگی اور جمہوری حقوق کا تحفظ ہر حکومت اور سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس معاملے کو سیاسی کشمکش یا انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے قومی اور ریاستی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے مسلم لیگ (ن) سے کہا کہ وہ معاملے کی نزاکت اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مثبت طرزِ عمل اختیار کرے اور اختلافات کے حل کے لیے مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ اپنائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات کا حل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ باہمی مشاورت، برداشت اور جمہوری مکالمے میں پوشیدہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چوہدری یٰسین کی بے وفائی، ڈسٹرکٹ کونسلر راجہ مزمل خان پیپلز پارٹی چھوڑ گئے
چوہدری محمد یٰسین نے ایکشن کمیٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے اور تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ بامقصد بات چیت کے ذریعے مسئلے کا قابلِ عمل حل تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی معاملات میں تصادم کی سیاست کے بجائے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوری روایات، عوامی حقوق اور سیاسی مکالمے کی حامی رہی ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی تمام فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہے گی ۔
انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ سنجیدہ مذاکرات اور باہمی اعتماد کی فضا کے ذریعے مہاجرین نشستوں کے مسئلے کا ایسا حل نکالا جا سکتا ہے جو جمہوری اصولوں، عوامی توقعات اور ریاستی مفادات سے ہم آہنگ ہو۔
چوہدری یٰسین نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی نئی لہر کی لپیٹ میں ہے اور ملک کو اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ایسے نازک حالات میں سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور تمام قومی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اختلافات کو مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کریں ۔
انہوں نے کہا کہ جب ملک کی سلامتی اور قومی استحکام کو خطرات لاحق ہوں تو سیاسی محاذ آرائی، انتشار اور غیر ضروری تنازعات سے گریز کرنا چاہیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چوہدری یٰسین کے قریبی ساتھی چوہدری امیر قابل 40 سالہ رفاقت توڑ کرن لیگ میں شامل
انہوں نےمزید کہا کہ قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور جمہوری رویوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ تمام سیاسی قوتوں کو چاہیے کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ریاست اور عوام کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کریں تاکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے ۔




