پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ نازک سیاسی اور امن و امان کی صورت حال پر گہری ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس آج شام وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے معتبر ذرائع کے مطابق یہ اہم ترین پارٹی اجلاس آج شام اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس کی صدارت خود چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین آزاد کشمیر کی موجودہ مجموعی سیاسی صورتحال سے شدید ناخوش ہیں اور آج ہونے والے اس ہنگامی اجلاس میں آزاد کشمیر کی صورت حال کے پیشِ نظر ان کی جانب سے کئی اہم اور بڑے فیصلے متوقع ہیں جو خطے کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھل چیک پوسٹ واقعہ: تمام اہلکار بازیاب؛ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کے خلاف گھیرا تنگ
عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کا پس منظر:
یاد رہے کہ یہ اہم ترین سیاسی بیٹھک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دو روز قبل ہی آزاد کشمیر حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو باقاعدہ طور پر ایک کالعدم تنظیم قرار دے دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے اس تنظیم پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد خطے میں سیاسی درجہ حرارت اور سیکیورٹی خدشات میں اچانک نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
9 جون کی ہڑتال کا اعلان اور ممکنہ اثرات:
دوسری جانب، حکومت کی طرف سے کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کے اس اقدام کے خلاف آنے والی 9 جون کو ملک گیر سطح پر مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسی کشیدہ اور ابھرتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے آزاد کشمیر کی مقامی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنے اور مستقبل کی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے اسلام آباد طلب کیا ہے۔




