قیمتوں

خصوصی سولر اسکیم: فلیٹوں میں رہنے والوں کے لیے حکومت کا بڑا فیصلہ

حکومتِ پاکستان نے ملک میں جاری توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے اور شہریوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے ایک منفرد اور خصوصی سولر اسکیم کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس انقلابی منصوبے کے تحت شہروں کے فلیٹس اور ایسے گھروں میں رہنے والے افراد کو بڑی سہولت دی جائے گی جہاں چھت پر جگہ کی کمی کے باعث سولر پینلز لگانا ممکن نہیں ہوتا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت ملک میں توانائی کی بچت اور شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے ایک ایسے جدید منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت اب شہری اپنے گاؤں کی زمین پر سولر سسٹم نصب کر سکیں گے۔ اس سسٹم کے ذریعے پیدا ہونے والی بجلی کا باقاعدہ کریڈٹ نیٹ میٹرنگ کے اصولوں کے تحت شہروں میں موجود ان کے گھروں یا فلیٹس کے بجلی بلوں میں منتقل اور ایڈجسٹ کیا جائے گا، جس سے شہریوں کی ایک بہت بڑی مشکل مستقل بنیادوں پر حل ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی کڑی شرط، سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کی تجویز

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ ٹریڈ (آر سی سی آئی) کے صدر عثمان شوکت نے اس حوالے سے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے ایک ایسی انقلابی اسکیم تیار کرنے کی باقاعدہ ہدایت جاری کی ہے جس کے تحت ملک میں ایک جامع ‘سولر وہیلنگ پالیسی’ متعارف کرائی جا رہی ہے تاکہ زمین اور چھت کی کمی کا سامنا کرنے والے طبقے کو بھرپور ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس کا مزید کہنا تھا کہ اس نئی پالیسی کا سب سے بڑا اور براہِ راست فائدہ ان لوگوں کو پہنچے گا جو بڑے شہروں کے فلیٹس یا ایسے تنگ مکانات میں رہائش پذیر ہیں، جہاں چھت پر مناسب جگہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ سولر پینل لگانے سے قاصر تھے۔ اب ایسے تمام شہری اپنی گاؤں کی خالی زمین پر سولر پلانٹ لگا کر اس سے پیدا ہونے والی بجلی کا کریڈٹ اپنے شہر کے فلیٹ کے بجلی بل میں باآسانی ایڈجسٹ کروا سکیں گے۔

عثمان شوکت نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سولر وہیلنگ پالیسی دنیا کے تمام بڑے، جدید اور ترقی یافتہ شہروں میں ایک مروجہ اور کامیاب ترین سہولت ہے، جہاں زمین کی کمی کا سامنا کرنے والے شہریوں کو اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سستی بجلی کا ریلیف دیا جاتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان میں اس جدید سہولت کا باقاعدہ آغاز ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا، جس سے نہ صرف نیشنل گریڈ پر بوجھ کم ہوگا بلکہ صارفین کے مہنگے بجلی کے بلوں میں بھی واضح کمی آئے گی۔

مزید پڑھیں: سولر صارفین کیلئے خوشخبری، نیپرا نے 25 کلو واٹ تک لائسنس شرط ختم کردی