آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور آئندہ بجٹ میں ٹیکسز کی ممکنہ بھرمار نے ملک میں سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے، جس سے عام آدمی کے لیے سستی بجلی کا خواب مشکل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ٹیکس ڈھانچے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اشرافیہ کو ملنے والی تمام تر ٹیکس چھوٹ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے اپنی حالیہ سفارشات میں الیکٹرک اور ہائیبرڈ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ سولر پینلز کو بھی ‘اشرافیہ’ کے زیرِ استعمال اشیاء کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ عالمی ادارے کا موقف ہے کہ ان شعبوں کو دی جانے والی مراعات ختم کر کے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سولر صارفین کیلئے خوشخبری، نیپرا نے 25 کلو واٹ تک لائسنس شرط ختم کردی
آئی ایم ایف کی ان سخت شرائط کے پیشِ نظر، حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں نمایاں اضافے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو ملک بھر میں سولر سسٹم کی تنصیب کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا، جو پہلے ہی مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک نیا مالی بوجھ ثابت ہوگا۔
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے اور طویل مدتی بیل آؤٹ پیکیج کے حصول کے لیے مذاکرات کے نازک مرحلے میں ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت کے پاس معیشت کو سہارا دینے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ ٹیکس نیٹ میں اضافے اور مختلف شعبوں کو دی گئی رعایتیں ختم کرنا اس نئے پروگرام کی بنیادی شرط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت سولر پینلز جیسی اہم ضرورت پر بھی ٹیکس بڑھانے پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: آلو، ٹماٹر، پیاز اور انڈوں سمیت اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس اور ڈیوٹیز کی وصولی جاری
سولر پینلز کی قیمتوں میں متوقع اضافے کی خبروں نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک طرف جہاں بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، وہیں متبادل توانائی کے ذرائع کو بھی مہنگا کرنے سے عام صارفین کے لیے بجلی کا بل کم کرنے کا آخری راستہ بھی دشوار ہو جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکس کی شرح 18 فیصد تک پہنچ گئی تو سولر سسٹم لگوانا متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو جائے گا۔



