بحران

تحصیل خورشید آباد میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا

حویلی (کشمیر ڈیجیٹل) تحصیل خورشید آباد میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

تحصیل کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آٹے کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث روزمرہ ضروریات پوری کرنا عوام کے لیے مشکل بنتا جا رہا ہے ۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے کی قلت کے باعث خصوصاً غریب اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے جبکہ کئی مقامات پر لوگ آٹے کے حصول کے لیے گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں ۔

مقامی افراد کے مطابق متعدد دکانوں اور سیل پوائنٹس پر آٹے کی محدود مقدار دستیاب ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو بار بار بازاروں کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حویلی میں آٹے کا بحران ، محکمہ خوراک کا موقف بھی سامنے آگیا

دوسری جانب مقامی تاجروں نے بھی سپلائی میں تعطل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹے کی ترسیل معمول کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے طلب اور رسد میں واضح فرق پیدا ہو چکا ہے ۔

عوامی حلقوں نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آٹے کی سپلائی بحال کی جائے تاکہ شہریوں کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے ۔

شہریوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے ۔

شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرنیوالے عناصر کیخلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور مارکیٹ میں آٹے کی وافر مقدار یقینی بنائی جائے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سماہنی: آٹے کا بحران، اسسٹنٹ کمشنر کلیم عباس کاسخت نوٹس ،اعلیٰ حکام کو مراسلہ جاری

مقامی آبادی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ خورشید آباد میں آٹے کی مناسب اور سستے نرخوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوامی مشکلات کا ازالہ ہو سکے اور معمولات زندگی بحال رہ سکیں ۔