اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اتفاق ہو گیا، امریکی محکمہ خارجہ

واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے ایک اہم ترین پیشرفت میں اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان باہمی دشمنی کے خاتمے اور جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس پیشرفت سے ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک وسیع تر معاہدے کی امیدوں کو تقویت ملی ہے، کیونکہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا۔

یہ اہم کامیابی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس سے قبل ایران نے کویت پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں وہاں کے ہوائی اڈے کو شدید نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب جوابی کارروائیاں کیں۔ ان واقعات کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد بھی آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی دھمکی کام کرگئی، ٹرمپ کا نیتن یاہو سے رابطہ، لبنان پر حملوں سے روک دیا

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کویت کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے تباہی کا ذمہ دار ناکام امریکی دفاعی میزائلوں کو قرار دیا ہے، تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے جان بوجھ کر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔

جنگ بندی کے مقاصد اور آئندہ کا لائحہ عمل:

واضح رہے کہ اسرائیل نے رواں سال مارچ میں حزب اللہ کے خلاف لبنان میں زمینی کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد دونوں فریق گزشتہ ماہ بھی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، تاہم جھڑپیں مسلسل جاری رہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق حالیہ جنگ بندی کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے، اور فریقین نے آئندہ بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت دونوں کے درمیان 22 جون کو دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔

بیروت پر حملہ جنگ کی واپسی ہوگی: عباس عراقچی:

دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج جنگ دوبارہ شروع کرنے اور کسی بھی وقت اسرائیل پر حملے کے لیے مکمل تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو مسلح افواج فیصلہ کن جواب دیں گی، اور بیروت کے خلاف جارحیت کا نتیجہ جنگ کی طرف واپسی ہوگا۔

عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ رابطہ منقطع نہیں ہوا لیکن مذاکرات میں فی الحال کوئی پیش رفت بھی نہیں ہوئی، اور مذاکرات کی میز پر واپسی ایرانی حقوق کے تحفظ اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے سے ہی مشروط ہوگی۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کو جھٹکا، امریکی ایوان نمائندگان نے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور کرلی