آل پارٹیز کانفرنس: مکالمے، استحکام اور عوامی مسائل حل کی جانب ایک قدم

، تحریر ، محمد شبیر اعوان( مظفرآباد )
آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب ریاست سیاسی، آئینی اور عوامی نوعیت کے متعدد اہم معاملات سے گزر رہی ہے۔ خطے کی مجموعی صورتحال، پاک بھارت تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی، مسئلہ کشمیر کے حساس تناظر اور اندرونی سیاسی مباحث کے ماحول میں اس کانفرنس کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کی بڑی سیاسی، مذہبی اور سماجی قیادت کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ریاستی استحکام اور جمہوری تسلسل کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، مسلم کانفرنس، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، مجلس وحدت المسلمین، لبریشن لیگ اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ سابق صدور، سابق وزرائے اعظم، وزراء حکومت، اراکین اسمبلی، مہاجر اور خصوصی نشستوں کے نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اگرچہ بعض سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی، تاہم کانفرنس کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ اختلاف رائے کے باوجود مکالمے اور مشاورت کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں۔

اس کانفرنس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ حالیہ مہینوں میں عوامی مسائل کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات اور مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ مہنگائی، بجلی کے نرخ، بنیادی سہولیات، روزگار کے مواقع اور انتظامی امور سے متعلق عوامی مسائل کسی بھی حکومت اور سیاسی نظام کی توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی مطالبات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ کو بھی سنجیدگی سے زیر بحث لایا گیا اور اس امر کی ضرورت محسوس کی گئی کہ عوامی مسائل کا حل آئینی، جمہوری اور مشاورتی طریقہ کار کے ذریعے تلاش کیا جائے۔

سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عوامی مطالبات اور ریاستی معاملات کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں تو مکالمہ ہی وہ راستہ ہوتا ہے جو مسائل کے حل کی بنیاد بنتا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے دوران بھی یہی پیغام سامنے آیا کہ اختلافات کے باوجود تمام فریقین کو جمہوری عمل، آئینی اداروں اور سیاسی مکالمے پر اعتماد برقرار رکھنا چاہیے۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے میں پائیدار حل تصادم سے نہیں بلکہ بات چیت، تحمل اور افہام و تفہیم سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔

قرارداد میں انتخابات کے بروقت انعقاد، جمہوری اداروں کے استحکام اور آئینی اصلاحات کے لیے وسیع مشاورت پر زور دیا گیا۔ یہ مؤقف اس اعتبار سے اہم ہے کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کا انحصار اداروں کے تسلسل اور عوامی اعتماد پر ہوتا ہے۔ اگر سیاسی قوتیں اہم معاملات پر مشاورت کے ذریعے فیصلے کرنے کی روایت کو فروغ دیں تو نہ صرف سیاسی استحکام پیدا ہوتا ہے بلکہ عوام کے اندر بھی نظام پر اعتماد بڑھتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد:40 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی 10جون کو ہوگی

خطے کی موجودہ صورتحال بھی سیاسی سنجیدگی کی متقاضی ہے۔ کشمیر ایک حساس خطہ ہے جو کئی دہائیوں سے علاقائی کشیدگی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی قسم کی سیاسی بے یقینی، انتشار یا افراتفری نہ صرف داخلی معاملات کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ ریاستی استحکام کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی قیادت کی جانب سے بار بار اس امر پر زور دیا جا رہا ہے کہ اختلافات کو جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو سیاسی نظام یا انتظامی ڈھانچے کو غیر ضروری دباؤ میں ڈال دیں۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے مذاکرات اور مفاہمت پر مبنی طرزِ عمل بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی گفتگو سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ حکومت معاملات کو تصادم کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے۔ سیاسی نظام کی کامیابی بھی اسی میں ہے کہ مختلف آراء رکھنے والے حلقے ایک دوسرے کا مؤقف سنیں اور ایسے حل تلاش کریں جو ریاستی مفاد اور عوامی توقعات دونوں سے ہم آہنگ ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر اس وقت سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور عوامی فلاح کے ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں تمام ذمہ دار قوتوں کو تحمل، تدبر اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ خطہ کسی بھی قسم کی غیر ضروری کشیدگی یا افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے اثرات صرف سیاسی ماحول تک محدود نہیں رہتے بلکہ ترقیاتی عمل، معاشی سرگرمیوں اور عوامی زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ جمہوری نظام کا تسلسل، آئینی اداروں کا احترام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں ہی وہ راستہ ہیں جو ریاست کو استحکام اور ترقی کی منزل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

مظفرآباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کا سب سے اہم پیغام بھی یہی ہے کہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن ریاستی مفاد، جمہوری تسلسل اور عوامی فلاح کے معاملات پر مشترکہ سوچ اور اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہی رویہ مستقبل میں سیاسی استحکام، عوامی اعتماد اور مضبوط جمہوری روایات کی بنیاد بن سکتا ہے۔