مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)بینک آف آزاد جموں و کشمیر نے تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئےشیڈولڈ بینک کا درجہ حاصل کرنے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں باضابطہ درخواست جمع کرا دی۔
بینک آف آزاد جموں و کشمیر نے اپنی ترقی اور وسعت کے سفر میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے پیر، یکم جون 2026ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں شیڈولڈ بینک لائسنس کے حصول کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی ۔
یہ درخواست بینک آف آزاد جموں و کشمیر کے نمائندگان نے کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران بینکنگ پالیسی اینڈ ریگولیشنز ڈیپارٹمنٹ (BPRD) کے حکام کو پیش کی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہائیکورٹ:قائم مقام صدر بینک آف آزادکشمیر کی تعیناتی کیس کی سماعت ملتوی
اس اہم پیش رفت کے ساتھ بینک آف آزاد جموں و کشمیر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت شیڈولڈ بینک کا درجہ حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے والا آزاد جموں و کشمیر حکومت کا پہلا ملکیتی بینک بن گیا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بینک آف آزاد جموں و کشمیر کا قیام 2006ء میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے منظور کردہ ایک ایکٹ کے تحت عمل میں آیا تھا۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بینک نے آزاد کشمیر بھر میں اپنے آپریشنز کو وسعت دی ہے اور مالیاتی شمولیت کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں کی معاونت، حکومتی لین دین کی سہولت اور خطے کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
شیڈولڈ بینک کا درجہ حاصل کرنے کی تیاری کے سلسلے میں بینک نے جامع اصلاحات نافذ کیں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مقرر کردہ تمام اہم شرائط کامیابی سے پوری کیں۔
ان اقدامات میں کم از کم مطلوبہ ریگولیٹری حد تک ادا شدہ سرمایہ (Paid-up Capital) میں اضافہ، کارپوریٹ گورننس کے نظام کو مضبوط بنانا، جدید رسک مینجمنٹ سسٹمز کا نفاذ، انفارمیشن ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن، اینٹی منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام (AML/CFT) کے فریم ورک کو مزید مؤثر بنانا اور ریگولیٹری تقاضوں سے ہم آہنگ جامع اسٹریٹجک بزنس پلان کی تیاری شامل ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق درخواست کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس میں بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور سینئر انتظامیہ کی فٹ اینڈ پراپر اسسمنٹ، گورننس ڈھانچے، آپریشنل تیاریوں اور تمام متعلقہ ریگولیٹری تقاضوں کی تعمیل کا معائنہ شامل ہوگا۔ اس عمل کی متوقع مدت تقریباً آٹھ ہفتے ہے۔
ریگولیٹری جائزے کی کامیاب تکمیل اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری سے مشروط، بینک کو توقع ہے کہ وہ جولائی 2026ء تک شیڈولڈ بینک کا درجہ حاصل کر لے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چوہدری رشید،دیوان چغتائی:کس کا پلڑا بھاری؟باسط بخاری کی دبنگ انٹری
بینک آف آزاد جموں و کشمیر کے قائم مقام صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد شہزاد میر نے کہاشیڈولڈ بینک کے درجہ کے حصول کیلئے درخواست جمع کرانا بینک کی تاریخ میں ایک سنگِ میل اور آزاد جموں و کشمیر کے مالیاتی شعبے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
یہ کامیابی حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے وژن اور بھرپور تعاون، ہمارے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رہنمائی، چیف سیکرٹری حکومتِ آزاد جموں و کشمیر، سیکرٹری مالیات حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کی سرپرستی،بینک کے ملازمین کی انتھک محنت، لگن اور پیشہ ورانہ وابستگی اور معزز صارفین کے تعاون کی عکاس ہے۔
ہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تمام ریگولیٹری توقعات اور تقاضوں پر پورا اترنے اور اعلیٰ ترین معیار، تعمیلِ قوانین اور بینکاری خدمات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔”
شیڈولڈ بینک کا درجہ حاصل ہونے کے بعد بینک ،آزاد جموں و کشمیر سے باہر پاکستان کے مختلف شہروں اور بیرونِ ملک اپنی آپریشنز کو نمایاں طور پر وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس مقصد کیلئے نئی شاخوں کا قیام، جدید اور اختراعی بینکاری مصنوعات کی فراہمی، ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا اجراء اور اوورسیز پاکستانیوں اور کشمیریوں کی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر توسیع کے مواقع تلاش کئے جائیں گے، تاہم یہ تمام اقدامات متعلقہ ریگولیٹری منظوریوں سے مشروط ہوں گے۔
توقع ہے کہ اس اہم کامیابی سے بینک کی ڈپازٹس جمع کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، سرمایہ کاری کے مواقع وسیع ہوں گے، مالیاتی شمولیت مزید مضبوط ہوگی اور بینک ،آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں پہلے سے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔
بینک آف آزاد جموں و کشمیر اس تاریخی سفر میں مسلسل تعاون، اعتماد اور حوصلہ افزائی پر حکومتِ آزاد جموں و کشمیر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، اپنے معزز صارفین، شراکت داروں، اسٹیک ہولڈرز اور تمام ملازمین کا تہہ دل سے شکریہ ادکرتا ہے۔



