ہائیکورٹ:قائم مقام صدر بینک آف آزادکشمیر کی تعیناتی کیس کی سماعت ملتوی

مظفرآباد (سٹاف رپورٹر ) بینک آف آزاد جموں و کشمیر کے قائم مقام صدر کی تعیناتی سے متعلق مختلف آئینی درخواستوں پر قائم مقام چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ جسٹس شاہد بہار نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے بینک آف آزاد جموں و کشمیر کے قائم مقام صدر کی تعیناتی کی نسبت دائر ایک اور درخواست پر فریقین کو 30 جون 2026 تک جواب جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے اور کیس کی سماعت اسی تاریخ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:چوہدری رشید،دیوان چغتائی:کس کا پلڑا بھاری؟باسط بخاری کی دبنگ انٹری

درخواست گزار راحیلہ جاوید و دیگر کی جانب سے ہارون ریاض مغل ایڈوکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ بینک آف آزاد جموں و کشمیر میں قائم مقام صدر کی تعیناتی کے دوران بائی لاز 2007 اور متعلقہ پالیسی فریم ورک کی سنگین خلاف ورزی کی جا رہی ہے، لہٰذا ایسی کوئی بھی تعیناتی غیر قانونی تصور کی جائے گی۔

دورانِ سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ اسی نوعیت کا ایک مقدمہ پہلے سے ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے جس میں بینک انتظامیہ نے صدر کی تعیناتی کے معاملے کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید مہلت طلب کر رکھی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایکشن کمیٹی معاہدہ ثبوتاژ کرنے کی کوشش سے سنگین نتائج برآمد ہونگے،فیصل ممتاز راٹھور

درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے قائم مقام صدر سے چارج واپس لے کر نئے قائم مقام افسر کو دینے کی کارروائی کی جا رہی ہے، جس کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا کی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد حکم امتناعی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ کیس میں اٹھائے گئے قانونی نکات پر تفصیلی سماعت ضروری ہے، اس لیے مزید کارروائی 30 جون 2026 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

عدالتی کارروائی میں واضح کیا گیا کہ تمام فریقین کو اپنے جوابات مقررہ تاریخ تک جمع کرانا ہوں گے، جس کے بعد آئندہ سماعت پر کیس کو میرٹ پر سنا جائے گا۔