وفاقی حکومت کا آئندہ بجٹ میں آٹو انڈسٹری پر ٹیکس نافذ کرنے کا پلان تیار

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ میں عوام اور آٹو انڈسٹری پر ٹیکسوں کا نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری کرلی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs)، ہائبرڈ گاڑیوں اور سولر پینلز پر حاصل سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے

جس کے بعد ان تمام اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیے جانے کا قوی امکان ہے۔حکومتِنے ہائبرڈ اور الیکٹریکل گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے کی کوشش کی تھی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر الیکشن کا شیڈول4 جون سے قبل جاری کرینگے، چیف الیکشن کمشنرغلام مصطفیٰ مغل

سیلز ٹیکس کی بحالی کے نتیجے میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بعد ملک میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں سمیت سولر پینلز کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس چھوٹ اور مراعات ختم کرنے کا یہ فیصلہ درآمدات کو محدود کرنے کی پالیسی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو گزشتہ مالی سال کے دوران ملک میں 45 ہزار گاڑیاں درآمد کی گئی تھیں، جبکہ رواں مالی سال 2025-26 کے دوران یہ تعداد 40 ہزار تک محدود رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پنشنرز ایسوسی ایشن کا حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک تیز کرنے کا اعلان

اس کے علاوہ رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں (جولائی سے اپریل) کے دوران اب تک تقریباً 38 ہزار گاڑیاں درآمد کی جا چکی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے دباؤ کے باعث حکومت آئندہ بجٹ میں ٹیکس چھوٹ اور دیگر رعایتوں کا دائرہ کار مزید محدود یا مکمل ختم کرنے پر مجبور ہو رہی ہے۔