عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بڑی وجہ ایران پر نئے امریکی حملے اور مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران میں نئی کارروائیوں کے بعد عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی، جس کے باعث تیل کی قیمتیں دوبارہ اوپر چلی گئیں جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی زیادہ تر مندی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کے ایران پر پھر حملے، تہران کا جوابی وار، کویت، لبنان اور خلیج میں ہائی الرٹ
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے جنوبی شہر بندر عباس میں ایک کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا جبکہ 4 ایرانی ڈرونز کو بھی مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور ان کا مقصد جنگ بندی برقرار رکھنا تھا۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں موجود 4 بحری جہازوں پر فائرنگ کی، جبکہ کویت نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف اپنے فضائی دفاعی نظام کو متحرک کرنے کی تصدیق کی ہے۔
ان تازہ کشیدگیوں کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 95.95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.7 فیصد اضافے کے بعد 90.17 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں کیلئے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے منتقل ہوتا ہے۔
ادھر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی منفی رجحان دیکھا گیا۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.5 فیصد سے زائد گرگیا جبکہ جنوبی کوریا، شنگھائی اور دیگر مارکیٹس میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے باعث مرکزی بینک شرح سود بڑھانے پر مجبور ہوسکتے ہیں، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی میڈیا امریکا سے معاہدہ کے نکات منظر عام پر لے آیا، وائٹ ہائوس کی تردید
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے متضاد بیانات سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کررہے ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔



