قومی اسمبلی میں آزادکشمیر کی عبوری نمائندگی چاہتا ہوں، بلاول بھٹو

مظفرآباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں آزاد جموں و کشمیر میں ریاستی حکام، پارٹی عہدیداران و ٹکٹ ہولڈرز کا اجلاس ہوا

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف، صدر ریاست چوہدری لطیف اکبر، صدر پی پی پی چوہدری یاسین، وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور، سینئر وزیر میاں وحید ودیگر موجود۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر میں ایم کیوایم اور الطاف حسین والی سیاست نہیں دیکھنا چاہتا، آزاد کشمیر کے انتخابات تک کہیں نہیں جارہا، میں یہیں آزاد کشمیر میں رہوں گا۔

بلاول کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی نئی نسل اسٹیٹس کو سے مطمئن نہیں ہے، ان کو پرانی تنخواہ پر نہیں چلایا جاسکتا، چاہتا ہوں کہ قومی اسمبلی میں آزاد کشمیر کی آبزرور کے طور پر سہی، ایک عبوری نمائندگی ہو،۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی رہنماؤں نے آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں بریفنگ ،ہم آزاد کشمیر بھر میں بھرپور انتخابی مہم چلارہے ہیں

بھمبر سے تاؤ بٹ تک آزاد جموں و کشمیر میں صرف پاکستان پیپلزپارٹی نظر آرہی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی رہنماؤں کی بریفنگ

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیرتنازعہ، جماعت اسلامی پاکستان کا امن جرگہ تشکیل دینے کا اعلان

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شرکائے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہر دور میں کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے،

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر آنے سے قبل میں نے نائب وزیراعظم سے یہاں کے عوام میں رسد و فراہمی کے مسائل کے حل کے حوالے سے بات کی

انہوں نے کہا کہ آپ نے 30 دن تک احتجاج کا ریکارڈ بنالیا، احتجاج تاحیات کیلئے نہیں ہوتے، اب اس احتجاج کو ختم کریں، آئیں بات کریں۔

تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ انتہاپسندانہ رویوں سے ہمیں حقوق حاصل نہیں ہوتے، ہمیں نظام میں رہتے ہوئے حقوق حاصل کرنے ہوں گے،

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ انتخابی عمل سے بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کے عمل کی مذمت کرتے ہیں،۔

آزاد کشمیر اپنے نام میں آزاد ہے مگر عملی طور پر گرانٹس پر چلتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر وفاقی حکومت میں ایک وزارت کے جوابدہ ہے یا اپنے وزیراعظم کے؟

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہوگا کہ کیسے ہم آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی امیدوں کو کیسے پورا کرنا ہے، آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی امیدوں کی تکمیل نہیں ہوگی تو انتشاری قوتیں فائدہ اٹھائیں گی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاک فوج کیخلاف ہرزاسرائی، فیاض الحسن چوہان کا مولانا فضل الرحمن سے معافی کا مطالبہ

اگر قومی اسمبلی میں آزاد کشمیر کی عبوری نمائندگی ہوگی تو جب کسی دوسرے صوبے کا فرد کون کشمیری ہے یا کون نہیں کا فیصلہ کررہا ہوگا تو راولاکوٹ والا اپنی تاریخ بتاسکے گا۔

اگر این ایف سی کے فورم پر آزاد کشمیر کا نمائندہ ہوتا تو وہ یہاں کے عوام کے لئے آواز بلند کرتا۔ انتخابات کے بعد آئینی فورم کا انعقاد ہونا چاہئیے جس میں کشمیر سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر کشمیری عوام فیصلے کریں۔

وفاقی وسائل اور دوسری سیاسی جماعتوں سے اتفاق رائے کے علاوہ آزاد کشمیر کی حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے مطالبات سو فیصد پورے کئے۔