اسلام آباد( کشمیر ڈیجیٹل) استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی ترجمان فیاض الحسن چوہان کا سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمن کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل سامنے آگیا۔
فیاض الحسن چوہان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے شہداء اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں پر سوال اٹھانا پوری قوم کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔مولانا فضل الرحمن فوری معافی مانگیں۔
پاک فوج کے جوان تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن، قوم اور آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر حملوں کی مذمت، غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ
مولانا فضل الرحمان کے حالیہ ریمارکس سے نہ صرف پاک فوج بلکہ شہداء کے خاندانوں اور پوری پاکستانی قوم کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
فیاض الحسن چوہان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اپنے بیان پر قوم، شہداء کے لواحقین اور سکیورٹی فورسز سے معذرت کریں اور معافی مانگیں۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےفیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف ایک اہم جنگ لڑ رہا ہے ۔
پاک فوج، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوان روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کو شہید میجر عدنان حیدر اور ایس ایس جی کمانڈو تحسین شہید کے نام منسوب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جوان تنخواہ کیلئے نہیں بلکہ وطن، قوم اور آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کی پوری تاریخ میں مجاہدین اور سپاہیوں کو بیت المال سے وظائف اور معاوضے ملتے رہے ہیں، اس لیے تنخواہ لینے کو شہادت کی عظمت سے جوڑنا تاریخی اور دینی حقائق کے بھی منافی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عبدالماجد خان کو بڑا جھٹکا، خواجہ دلاور درانی کی ہزارہ میں دھوم
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ ریمارکس سے نہ صرف پاک فوج بلکہ شہداء کے خاندانوں اور پوری پاکستانی قوم کے جذبات مجروح ہوئے ہیں پاک فوج کے خلاف ایسے بیانات دشمن قوتوں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں، جبکہ آج پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی عناصر دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کے دوران قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر کافی ہیں اور کسی متوازی لشکر یا نجی فورس کی ضرورت نہیں۔
فیاض الحسن چوہان نے مولانا فضل الرحمان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیان پر قوم، شہداء کے لواحقین اور سکیورٹی فورسز سے معذرت کریں۔
پریس کانفرنس کے دوران فیاض الحسن چوہان نے مولانا فضل الرحمان سے متعدد سوالات بھی اٹھائے، جن میں ان کے بعض مبینہ روابط، سیاسی مؤقف اور خاندانی سیاست سے متعلق نکات شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا درس دینے والوں کو پہلے اپنی جماعت میں جمہوری روایات قائم کرنی چاہئیں۔
ایک سوال کے جواب میں فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج آئینی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے ۔
پوری قوم کو قومی سلامتی کے معاملات پر متحد رہنا چاہیے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ دہشت گردی اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرے اور دشمن کے پروپیگنڈے کا حصہ بننے سے گریز کرے۔




