پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ ون ڈے ورلڈکپ سے قبل ٹیم کو پاور پلے میں زیادہ رنز بنانے اور وکٹیں حاصل کرنے کے شعبے پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس حوالے سے نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مڈل اوورز میں اسٹرائیک ریٹ بہتر بنانے پر بھی توجہ دینا ہوگی تاکہ دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹیم کیلئےفائدہ مند ہوا تو 2027 کاورلڈکپ ضرور کھیلوں گا : ویرات کوہلی
ہیڈ کوچ کے مطابق قومی ٹیم گزشتہ 10 روز سے لاہور میں کیمپ کر رہی تھی اور اس دوران کھلاڑیوں کے اعتماد میں گزشتہ ایک سال کے مقابلے میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔
محمد رضوان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مائیک ہیسن نے کہاکہ ان کی آمد سے قبل رضوان نہ صرف ٹی 20اسکواڈ کا حصہ تھے بلکہ کپتان بھی تھے، تاہم ویسٹ انڈیز سیریز کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے محسوس کیا کہ کپتانی میں تبدیلی ضروری ہے کیونکہ ٹیم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ جب سے ہیڈ کوچ بنے ہیں، محمد رضوان ٹی 20فارمیٹ میں شامل نہیں ہیں۔انہوں نے واضح کیاکہ ٹیم کا انتخاب ہمیشہ انفرادی کارکردگی اور ٹیم کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق بنگلہ دیش سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا جبکہ محمد رضوان بھی اسکواڈ کا حصہ تھے۔
انہوں نے کہاکہ آئندہ سال ورلڈ کپ کے پیش نظر ٹیم مینجمنٹ مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سلہٹ ٹیسٹ میں قومی ٹیم کو شکست، بنگلادیش نے پاکستان کو وائٹ واش کر دیا
آسٹریلیا کے خلاف ریکارڈ سے متعلق سوال پر مائیک ہیسن نے کہا کہ آسٹریلیا کا ون ڈے ریکارڈ ہمیشہ مضبوط رہا ہے جبکہ پاکستان کئی مواقع پر انہیں شکست دینے میں ناکام رہا ہے۔
نائب کپتانی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں سلمان علی آغا کی نائب کپتانی کے باضابطہ اعلان کا علم نہیں، تاہم وہ گزشتہ 5 سیریز سے یہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔




