صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب جعفر ایکسپریس میں ہونے والے ایک ہولناک اور شدید دھماکے کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 3 جوانوں سمیت کم از کم 14 افراد شہید ہو گئے ہیں۔ اس افسوسناک اور بزدلانہ واقعے میں متعدد مسافر زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں معصوم خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں ٹرین کی ایک بوگی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ دو بوگیاں پٹری سے نیچے اتر گئیں۔ دھماکے کے فوراً بعد ٹرین میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس کی لپیٹ میں آکر ٹریک کے قریب کھڑی متعدد گاڑیاں بھی جل کر خاکستر ہو گئیں، جبکہ ٹرین کی دیگر بوگیوں اور آس پاس قائم عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ :جعفر ایکسپریس کے قریب شدید دھماکہ، سیکیورٹی اداروں کی مستعدی سے ٹرین بڑے سانحے سے بچ گئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے ایک بار پھر نہتے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے اور یہ حملہ امن دشمن عناصر کی بدترین بزدلانہ کارروائی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مقامات کو نشانہ بنانا دراصل دہشت گردوں کی شدید بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔ شاہد رند کا مزید کہنا تھا کہ شہداء کی پاک قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان سفاک دہشت گردوں کو ان کے عبرتناک انجام تک ہر صورت پہنچایا جائے گا۔
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مطابق، واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر پورے علاقے کو کڑے گھیرے میں لے لیا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے دھماکے کی جگہ سے اہم بیلسٹک شواہد اکٹھے کرنے کا عمل اور واقعے کی تمام پہلوؤں سے جامع تحقیقات تیزی سے جاری ہیں تاکہ اس کے محرکات کا پتا لگایا جا سکے۔




