واشنگٹن سے موصول ہونے والی انتہائی اہم رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری شدید کشیدگی اور مختلف محاذوں پر تنازع کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے ایک بہت بڑی اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ مذاکرات کار مبینہ طور پر ایک جامع امن معاہدے کے مسودے پر مکمل طور پر متفق ہو گئے ہیں۔
ایک معروف امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، اس تاریخی اور انتہائی اہم امن معاہدے کا باضابطہ اور باقاعدہ اعلان آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کی صبح ہی اس امن معاہدے کے ابتدائی مسودے پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا تھا، جس کے فوراً بعد اس اہم دستاویز کو حتمی اور باضابطہ منظوری کے لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے مذاکرات میں مثبت پیشرفت کی اُمیدہے : ایرانی سفیر رضا امیری مقدم
مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے والی شخصیات:
ذرائع کے مطابق، ان انتہائی حساس اور پسِ پردہ مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں دونوں جانب سے انتہائی اہم ترین شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان مذاکرات میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے دونوں ممالک کو قریب لانے اور اس مسودے کو حتمی شکل دینے میں اہم ترین کردار نبھایا ہے۔
مستقل امن کی امید اور حساس تصفیہ طلب معاملات:
واضح رہے کہ اگر یہ تاریخی معاہدہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر مکمل طور پر کامیاب ہوتا ہے، تو گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری شدید غیر یقینی صورتحال اور عارضی جنگ بندی کو ایک مستقل امن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، دوسری جانب مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض انتہائی حساس معاملات اب بھی دونوں اطراف سے گہرے زیر غور ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل، ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور خطے میں سیکیورٹی کے مجموعی انتظامات شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران سے معاہدے پر زیادہ تر معاملات طے پا گئے ہیں : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ پر اثرات:
ان تمام امور کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے طریقہ کار پر بھی دونوں فریقین کو حتمی طور پر اتفاق کرنا ہوگا، کیونکہ یہ بحری راستہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی اور انتہائی اہم ترین راستہ سمجھا جاتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا اس بڑی پیش رفت پر کہنا ہے کہ یہ ممکنہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کی پوری صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ سکتا ہے، تاہم اس کے دور رس اثرات کا تمام تر انحصار مستقبل کے عملی اقدامات اور دونوں ممالک کے باہمی اعتماد پر ہوگا۔




