چوہے بلی کا کھیل ختم، پاکستان و آزاد کشمیر میں ایک ساتھ انتخابات کرائے جائیں، جاوید راٹھور

مظفرآباد: چیئرمین اوورسیز کشمیریز جاوید احمد راٹھور نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری سیاسی “چوہے بلی کے کھیل” کو ختم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں انتخابات ایک ہی وقت میں کروائے جائیں تاکہ پری پول دھاندلی، سیاسی مداخلت اور حکومتوں کے درمیان تصادم کا خاتمہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان میں حکومت تبدیل ہوتی ہے تو آزاد کشمیر کی سیاست اور حکومتی نظام متاثر ہوتا ہے، جس کا نقصان براہ راست عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انتخابات بروقت ہوں گے، عوام افواہوں پر ہرگز توجہ نہ دیں، قائم مقام صدر آزادکشمیر

جاوید احمد راٹھور نے معروف بزنس مین محمد شفیق بٹ ، رانا افتخار احمد و دیگر ہمراہ مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل فروری 2025 میں بھی انہوں نے اسی فورم سے مہاجرین کی نشستوں، اوورسیز کشمیریوں کی نمائندگی اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے آواز اٹھائی تھی، تاہم آج آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ہمیشہ وفاقی حکومتوں کی مداخلت دیکھی گئی، وفاقی وزراء انتخابی مہمات میں شریک ہوتے ہیں اور عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ چونکہ مرکز میں فلاں جماعت کی حکومت ہے اس لیے آزاد کشمیر میں بھی اسی جماعت کی حکومت بنے گی، جس سے انتخابات کی شفافیت متاثر ہوتی ہے۔

آزاد کشمیر اسمبلی اپنی مدت میں دو سال کی توسیع کرے تاکہ آئندہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں ایک ہی دن انتخابات منعقد ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہو جائے تو آزاد کشمیر کی حکومتیں سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر بہتر انداز میں کام کر سکیں گی اور وفاقی حکومت کی تبدیلی سے یہاں کے ترقیاتی فنڈز اور منصوبے متاثر نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر انتخابات 2026: جمعیت علمائے جموں و کشمیر کا پی ٹی آئی سے سابقہ اتحاد ختم

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں 15 سے 20 لاکھ کشمیری مقیم ہیں مگر ان کی نمائندگی کے لیے اسمبلی میں صرف ایک نشست موجود ہے، جو ناکافی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوورسیز کشمیریوں کیلئے کم از کم پانچ مخصوص نشستیں مختص کی جائیں جن میں شمالی امریکہ، یورپ، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ کے کشمیریوں کو نمائندگی دی جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں، تجربات اور سرمایہ کاری کے ذریعے آزاد کشمیر کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے پاس جدید دنیا کا تجربہ، ٹیکنیکل نالج اور مضبوط جمہوری نظاموں کی سمجھ موجود ہے، جس سے آزاد کشمیر میں ادارہ جاتی اصلاحات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور اگر وژنری قیادت میسر ہو تو آئندہ 10 سے 15 برسوں میں یہ خطہ اتنا مستحکم ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو مالی معاونت فراہم کرنے کے قابل بن جائے۔

جاوید احمد راٹھور نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بے روزگاری نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے انڈسٹریل زونز، چھوٹی صنعتوں، ڈیمز اور بجلی کے منصوبوں پر فوری کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اپنی بجلی خود پیدا کر کے نہ صرف خود کفیل بن سکتا ہے بلکہ بجلی فروخت کر کے آمدنی بھی حاصل کر سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں کی سیاست صرف انتخابات اور اقتدار کے گرد گھومتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات 2026: الیکشن کمیشن نے انتخابی حلقوں کی فائنل لسٹ جاری کر دی

جاوید احمد راٹھور کہا کہ آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے ایک خودمختار “آزاد کشمیر ڈویلپمنٹ بورڈ” قائم کیا جائے جسے آئینی تحفظ حاصل ہو اور جو 50 سے 100 سالہ ترقیاتی منصوبہ بندی کے تحت کام کرے تاکہ حکومتوں کی تبدیلی سے ترقیاتی منصوبے متاثر نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومتیں تبدیل ہونے کے بعد کئی ترقیاتی منصوبے ادھورے چھوڑ دیے جاتے ہیں، جس سے قومی وسائل کا ضیاع ہوتا ہے۔