مظفرآباد: آزاد کشمیر کے قائمقام صدر چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات آئینی تقاضوں کے مطابق بروقت منعقد ہوں گے ، عوام سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے پھیلائی جانے والی افواہوں پر ہرگز توجہ نہ دیں۔
ایوانِ صدر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری لطیف اکبرنے کہا کہ موجودہ قانون ساز اسمبلی نے 3اگست کو حلف اٹھایا تھا اور آئین کی رو سے اسمبلی اپنی آئینی مدت تین اگست کو ہی مکمل کریگی۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات 2026: الیکشن کمیشن نے انتخابی حلقوں کی فائنل لسٹ جاری کر دی
انہوں نے واضح کیا کہ تمام آئینی و جمہوری تقاضے پورے کرتے ہوئے انتخابی عمل مقررہ وقت پر انجام دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے مختصر عرصے میں عوام کا حکومت پر اعتماد بحال کیا ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
قائم مقام صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں اظہارِ رائے اور سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی موجود ہے، یہاں ہر سیاسی جماعت اور مکتبہ فکر کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی آزاد کشمیر میں موجود سیاسی آزادی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سیاسی جدوجہد کرنے والے بیشتر رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ آزاد کشمیر میں جمہوری روایات اور سیاسی آزادی کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر انتخابات 2026: جمعیت علمائے جموں و کشمیر کا پی ٹی آئی سے سابقہ اتحاد ختم
این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سوال کے جواب میں قائم مقام صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آئینی طور پر آزاد جموں و کشمیر این ایف سی ایوارڈ کا حصہ نہیں بن سکتا کیونکہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو آبادی اور رقبے کے تناسب سے وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں بلکہ الگ آئینی حیثیت رکھتے ہیں۔




